رسائی کے لنکس

کوئٹہ میں فائرنگ سے شیعہ ہزارہ برادری کے تین افراد ہلاک

  • ستارکاکڑ

(فائل فوٹو)

(فائل فوٹو)

پولیس کے عہدیداروں کے مطابق بظاہر یہ فرقہ ورانہ تشدد کی ایک کارروائی تھی اور فرار ہونے والے حملہ آوروں کی تلاش کے لیے سٹیلائٹ ٹاﺅن سمیت دیگر ملحقہ علاقوں کی ناکہ بندی کر دی گئی ہے۔

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے مرکزی شہر کوئٹہ میں پیر کو نامعلوم مسلح حملہ آوروں کی فائرنگ سے شیعہ مسلک کے پیروکار ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والے تین افراد ہلاک ہو گئے۔

پولیس حکام کے مطابق کوئٹہ کے علاقے سیٹلائیٹ ٹاؤن میں مرزا حسین ، اسد اللہ اور محمد طاہر نامی تین افراد بس اڈے میں تفتان جانے کے لیے بیٹھے تھے کہ موٹر سائیکل پر سوار نامعلوم مسلح افراد نے اُن پر اندھا فائرنگ کی، جس سے دو افراد موقع پر ہی ہلاک ہو گئے جبکہ ایک نے اسپتال میں دم توڑ دیا۔

پولیس کے عہدیداروں کے مطابق بظاہر یہ فرقہ ورانہ تشدد کی ایک کارروائی تھی اور فرار ہونے والے حملہ آوروں کی تلاش کے لیے سٹیلائٹ ٹاﺅن سمیت دیگر ملحقہ علاقوں کی ناکہ بندی کر دی گئی ہے۔

بلوچستان میں اس سے قبل بھی شعیہ ہزارہ برادری پر مہلک حملے کیے جاتے رہے ہیں جن میں پانچ سو سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

جنوری 2013 میں ہزارہ برادری کی آبادی والے علاقے علمدار روڈ پر دو خودکش بم دھماکوں میں سو سے زائد جبکہ ہزارہ ٹاﺅن میں ایک مارکیٹ میں کیے جانے والے دھماکے میں ایک سو افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

اس کے علاوہ تفتان بازار میں ایک ہوٹل اور کوئٹہ سے تفتان جانے والی قومی شاہراہ پر شیعہ برادری کے لوگوں پر جان لیوا حملے کیے گئے۔

صوبائی حکومت کے اعلیٰ عہدیدار یہ کہتے رہے ہیں شیعہ ہزارہ برادری کے تحفظ کے لیے کئی اضافی انتظامات کیے گئے ہیں اور اُن کی آبادی والے علاوں میں داخلی اور خارجی راستوں پر فرٹیئر کور اور پولیس کو تعینات کیا گیا ہے جبکہ ہزارہ آبادی سے شہر کے دوسرے علاقوں میں جانے والوں کو بھی سیکورٹی فراہم کی جاتی ہے۔

XS
SM
MD
LG