رسائی کے لنکس

کوئٹہ کے نواحی علاقے سریاب روڈ پر شافی کالونی کے قریب انسداد دہشت گردی فورس کے انسپکٹر شبیر احمد اپنے گھر سے دفتر پیدل جا رہے تھے کہ مو ٹر سائیکل پر سوار نا معلوم افراد نے اُن پر اندھا دُھند فائرنگ کی جس سے وہ موقع پر ہی دم توڑ گئے۔

پاکستان کے جنوب مغربی صوبہ بلوچستان پیر کو انسداد دہشت گردی فورس کے ایک افسر ہلاک کو موٹر سائیکل پر سوار مسلح افراد نے گولیاں مار کر ہلاک کر دیا۔

بلوچستان پولیس کے ترجمان کے مطابق شہزاد فرحت نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ کوئٹہ کے نواحی علاقے سریاب روڈ پر شافی کالونی کے قریب انسداد دہشت گردی فورس کے انسپکٹر شبیر احمد اپنے گھر سے دفتر پیدل جا رہے تھے کہ مو ٹر سائیکل پر سوار نا معلوم افراد نے اُن پر اندھا دُھند فائرنگ کی جس سے شبیر احمد موقع پر ہی دم توڑ گئے۔

پولیس حکام کے مطابق فائرنگ کے واقعہ میں جان کی بازی ہارنے والے انسپکٹر کا تعلق صوبہ پنجاب سے تھا۔

کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان نے ایک بیان میں انسپکٹر شبیر احمد کو قتل کرنے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

ایک روز قبل کوئٹہ کے نواحی علاقے میں قائم ایک نجی بجلی گھر کے مرکزی دروازے پر تعینات پولیس کے دو اہلکار نا معلوم افراد کی فائرنگ سے شدید زخمی ہو گئے جو اب بھی زیر علاج ہیں۔

وزیراعلیٰ بلوچستان نواب ثناء اللہ زہری نے ان واقعات می مذمت کر تے ہوئے پولیس حکام کو ہدایت کی ہے کہ شہر میں سکیورٹی کو مزید مو ثر اور فعال بنایا جائے۔

اُدھر خاران میں ایک کالعدم بلوچ عسکری تنظیم کے 6 کارکنوں نے ہتھیار رکھ کر حکومت کی عملدار ی کو تسلیم کر لیا ہے ۔

’فرنٹئیر کور‘ ترجمان کی طرف سے میڈ یا کو جاری کیے گئے بیان میں بتایا گیا ہے کہ یہ عسکر یت پسند خاران کے علاقے پارود میں کیمپ چلاتے تھے اور قانون نا فذ کرنے والے اداروں پر حملوں کے علاوہ ہدف بنا کر لوگوں کو نشانہ بنانے کے واقعات میں ملوث تھے۔

XS
SM
MD
LG