رسائی کے لنکس

کوئٹہ میں انسداد پولیو ٹیم پر حملہ، تین خواتین سمیت چار ہلاک


فائل فوٹو

فائل فوٹو

مشرقی بائی پاس کے قریب مینگل آباد میں بچوں کو انسداد پولیو کے قطرے پلانے کے لیے 10 رکنی ٹیم کی گاڑی کو روک پر اُن پر خود کار ہتھیاروں سے فائرنگ شروع کر دی۔

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں بدھ کو انسداد پولیو کی ٹیم پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے تین خواتین سمیت چار افراد ہلاک ہو گئے۔

پولیس اور عینی شاہدین کے مطابق کوئٹہ کے نواحی علاقے مشرقی بائی پاس کے قریب مینگل آباد میں بچوں کو انسداد پولیو کے قطرے پلانے کے لیے 10 رکنی ٹیم کی گاڑی کو روک پر اُن پر خود کار ہتھیاروں سے فائرنگ شروع کر دی۔

ایک خاتون اور ایک مرد موقع پر ہی ہلاک ہو گئے جب کہ باقی نے اسپتال میں دم توڑا، ہلاک ہونے والی تین خواتین میں سے دو بہنیں تھیں۔

تین خواتین زخمی بھی ہوئیں جو اسپتال میں زیر علاج ہیں۔ حملے کے وقت انسداد پولیو ٹیم کے ہمراہ سکیورٹی کے اہلکار نہیں تھے۔

حملہ آور موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ صوبائی حکومت کے مطابق پولیس اور فرنٹئیر کور کے اہلکاروں نے علاقے کی ناکہ بندی کر کے مشتبہ افراد کی تلاش شروع کر دی۔

حملے کے بعد علاقے میں انسداد پولیو کی مہم روک دی گئی۔

گزشتہ ہفتے بلوچستان کے علاقے چمن میں بھی انسداد پولیو ٹیم پر حملہ کیا گیا تھا، اس حملے میں ٹیم کی حفاظت پر مامور لیویز کا ایک اہلکار زخمی ہو گیا تھا۔

تاحال کسی گروپ کی طرف سے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی گئی۔

پاکستان میں رواں سال پولیو سے 246 بچے متاثر ہو چکے ہیں، جن میں سے 12 کا تعلق بلوچستان سے ہے۔ گزشتہ ایک دہائی سے زائد عرصے کے دوران ایک سال میں ملک میں پولیو سے متاثرہ بچوں کی یہ سب سے زیادہ تعداد ہے اور اس وائرس کے پھیلاؤ کے حوالے سے عالمی سطح پر بھی تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

ملک میں اس سے قبل بھی انسداد پولیو کی ٹیموں اور اُن کی حفاظت پر مامور سکیورٹی اہلکاروں پر مہلک حملے ہو چکے ہیں۔ 2012ء کے بعد سے اب تک ایسے حملوں میں رضاکاروں اور پولیس اہلکاروں سمیت 60 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

ایسے حملوں کے بعد اس مرض سے بچاؤ کے خلاف چلائی جانے والی مہم کے دوران سکیورٹی کے اضافی انتظامات کیے جاتے ہیں۔

پاکستان کا شمار دنیا کے ان تین ملکوں میں ہوتا ہے جہاں انسانی جسم کو مفلوج کردینے والی بیماری پولیو کے وائرس پر تاحال پوری طرح قابو نہیں پایا جاسکا ہے۔

دیگر دو ملکوں میں افغانستان اور نائیجیریا شامل ہیں لیکن وہاں رواں سال پولیو کے رپورٹ ہونے والے نئے کیسز کی تعداد پاکستان کی نسبت انتہائی کم ہے۔

حال ہی میں پاکستانی وزیراعظم نواز شریف نے پولیو وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کی کوششوں کو تیز کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے متنبہ کیا تھا کہ اگر اس ضمن میں فوری اقدامات نہ کیے گئے تو آئندہ سالوں میں پولیو کیسز کی تعداد میں دس گنا اضافہ ہوسکتا ہے۔

XS
SM
MD
LG