رسائی کے لنکس

بلو چستان میں بجلی کی طویل لوڈ شیڈنگ کے خلاف زمینداروں کا احتجاج

  • ستار کاکڑ

بلو چستان میں بجلی کی طویل لوڈ شیڈنگ کے خلاف زمینداروں کا احتجاج

بلو چستان میں بجلی کی طویل لوڈ شیڈنگ کے خلاف زمینداروں کا احتجاج

بلو چستان میں زمیندار ایکشن کمیٹی بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ کے خلاف پیر کو پہیہ جام ہٹرتال کی۔ مظاہرین کا موقف تھا کہ روزانہ18 سے 20 گھنٹے کی بجلی کی بندش کے باعث اُن کی فصلیں اور باغات پانی کی قلت کا شکا ر ہیں جس سے اُنھیں بھاری مالی نقصان کا سامنا ہے۔ زمیندار ایکشن کمیٹی کے ایک عہدیدار حاجی نظام الدین نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہاکہ صوبے کی تقریباً80 آبادی کا ذریعہ معاش زراعت سے جڑا ہوا ہے اور پانی کی قلت کے باعث اُنھیں شد ید مشکلات کا سامنا ہے۔

لیکن صوبے میں بجلی تقسیم کرنے والے سرکاری ادارے کیسکو کے چیف انجنئیر نعیم اکبر شاہ نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ بجلی کی کمی اس پورے ملک کو سامنا ہے البتہ بلوچستان میں صورت حال کی سنگینی کی ایک بڑی وجہ تخریب کاری کی کارروائیوں میں بڑی تعداد میں بجلی کے کھمبوں کو پہنچنے والا نقصان بھی ہے۔ نعیم اکبر شاہ نے کہا کہ بجلی کے کھمبوں کی مرمت کا کام جاری ہے اور جو رواں ہفتے کے اواخر تک مکمل ہوجائے گا۔

پیر کو کی ہڑتا ل کے دوان مظاہرین نے کئی گھنٹوں تک اہم شاہراہوں کو رکاوٹیں کھڑی کر کے بند کیے رکھا۔ ان میں کوئٹہ کو چمن ، ایران اور کراچی سے ملانے والی شاہراہیں قابل ذکر ہیں جس کی وجہ سے نیٹو فورسز کو چمن کے راستے افغانستان تک سامان رسد پہنچانے کا عمل بھی متاثر ہوا۔ اس کے علاوہ مظاہرین نے ریلوے کی پٹڑیوں پر دھرنا دے کر ٹر ینوں کی آمد و رفت بھی دو گھنٹے تک بند کر دی۔

دریں اثناء وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے پیر کواسلام آباد میں ایک خصوصی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ بجلی کی بچت کے لیے متعارف کردہ سرکاری پالیسی کے مثبت نتائج سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں اور بجلی کی فراہمی میں بہتری آ رہی ہے۔ وزیراعظم گیلانی نے کہا کہ حکومت لوڈشیڈنگ کے جلد از جلد خاتمے کے عزم پر کاربند ہے اور زراعت و صنعتی شعبے کو بجلی کی مناسب فراہمی حکومت کی ترجیحات میں سرفہرست ہے۔

XS
SM
MD
LG