رسائی کے لنکس

بلوچستان میں ٹارگٹ کلنگ کی حوصلہ شکنی کے لیے انسداد دہشت گردی فور س کا قیام

  • ستارکاکڑ

بلوچستان میں ٹارگٹ کلنگ کی حوصلہ شکنی کے لیے انسداد دہشت گردی فور س کا قیام

بلوچستان میں ٹارگٹ کلنگ کی حوصلہ شکنی کے لیے انسداد دہشت گردی فور س کا قیام

بلو چستان میں ہد ف بنا کر سکیورٹی فورسز، سرکاری شخصیات اور خاص طور پر حالیہ دنوں میں شعبہ تعلیم سے منسلک افراد کو ہلاک کرنے کے واقعات میں اضافہ صوبائی حکام کے لیے تشویش کا باعث بنا ہو ا ہے۔ ان واقعات کی روک تھام کے لیے صوبے میں پولیس کی سربراہی میں انسداد دہشت گردی ٹاسک فورس تشکیل دی گئی ہے ۔

وائس آف امریکہ سے ایک خصوصی انٹرویو میں صوبائی سیکرٹری داخلہ اکبر حسین درانی نے خصوصی ٹاسک فورس کی مزید تفصیلات بتاتے ہوئے کہاکہ حکومت نے شہر کی اہم شاہراوں اور بازاروں میں کلوز سرکٹ کیمرہ لگانے کا منصوبہ بھی بنایا ہے تاکہ تشدد کے واقعے میں ملوث افرادکی صحیح شناخت کر نے اور عدالت سے انھیں سزا دلوانے میں آسانی ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ انسداد دہشت گردی کے قانون میں حال ہی میں تبدیلیوں کے بعد اب ایسے واقعات میں ملوث افراد کے خلاف گواہی دینے کے سلسلے میں لوگو ں کی حوصلہ افزا ئی ہوگی۔

صوبائی سیکرٹری داخلہ اکبر حسین درانی نے کہا ہے اساتذہ معاشر ے کا ایک انتہائی قابل احترام طبقہ ہے اور انھیں تشدد کی کارروائیوں کا نشانہ بنانا قابل مذمت اور ناقابل برداشت ہے۔

ماہرین تعلیم کے مطابق حکومت بلو چستان کے لیے لمحہ فکریہ ہے کہ صوبے کی صر ف 37 فیصد شرح خواند گی میں گزشتہ دس سالوں کے دوران خاطر خواہ اضافہ دیکھنے میں نہیں آیا۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق صوبے کی آبادی 85 لاکھ ہے اور اساتذہ کی نمائندہ تنظیموں کا کہنا ہے تعلیمی اداروں میں پڑھانے والے اساتذہ میں سے ایک بڑی تعداد کا تعلق دوسرے صوبوں سے ہے ۔

خیال رہے کہ بلوچستان یونیورسٹی کے سابق پرو وائس چانسلر کو دو سال قبل ہدف بناکر قتل کیاگیاتھا جب کہ اُس کے بعد سے اب ایک درجن سے زائد اساتذہ کو ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا گیا ہے جس میں زیادہ تر تعداد دوسرے صوبے سے تعلق رکھنے والے اساتذہ کی ہے اور اپریل کے اواخر میں ایک خاتون پروفیسر ناظمہ طالب کو بھی دن دیہاڑے قتل کیا گیا تھا۔

محکمہ تعلیم کے صوبائی حکام کا کہنا ہے کہ ٹارگٹ کلنگ کے ان واقعات اور صوبے میں امن وامان کی خراب ہوتی ہوئی صورت حال کے باعث 30 سے زائد پی ایچ ڈی اساتذہ صوبہ چھوڑ کر پہلے ہی جا چکے ہیں جب کہ اطلاعات کے مطابق دوسرے صوبوں سے تعلق رکھنے والے
اساتذہ کی ایک بڑی تعداد نے صوبائی محکمہ تعلیم سے صوبہ چھوڑنے کی درخواست بھی کر رکھی ہے۔

XS
SM
MD
LG