رسائی کے لنکس

ٹارگٹ کلنگ کے خلاف اساتذہ کا احتجاجی مظاہرہ

  • ستار کاکڑ

ٹارگٹ کلنگ کے خلاف اساتذہ کا احتجاجی مظاہرہ

ٹارگٹ کلنگ کے خلاف اساتذہ کا احتجاجی مظاہرہ

بلو چستان پر وفیسر ز اینڈ لیکچرر ایسوسی ایشن کے زیراہتمام 21 مارچ کو ٹارگٹ کلنگ کے واقعہ میں ہلا ک کیے جانے والے پر وفیسر فضل باری کے قتل کے خلاف بلو چستان کے تین سوسے زائد مر د و خواتین اساتذہ نے کوئٹہ شہر میں ریلی نکالی اور حکومت سے اساتذہ کو تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔

ریلی کے شر کاء سے خطاب کر تے ہو ئے بی پی ایل اے کے صدر اقبال بنگلزئی نے کہا کہ پر وفیسر فضل باری نے بلو چستان کے ہزاروں نو جوانوں کوعلم کی روشنی سے منو ر کیا لیکن اُنھیں قتل کر کے علم کی ایک شمع کو ہمیشہ کے لیے بجھا دیاگیا ۔انھوں نے کہا کہ مظاہر ے میں حصہ لینے والے اساتذہ درس وتدریس کے شعبے سے وابستہ ہیں اُنھیں اس وقت کالجز اور کلاسوں میں ہونا چاہیے لیکن حکومت کی طر ف سے اساتذہ کو تحفظ فراہم کرنے میں غفلت بھر تنے کی وجہ سے وہ سڑکوں پر آنے پر مجبور ہو ئے ہیں۔

بلو چستان کے30 اضلاع میں 83 کالجز ہیں جہاں48 ہزار کے قر یب طالب علم زیرتعلیم ہیں اور اُن کو 2198 اساتذہ پڑھاتے ہیں تاہم حالیہ چند سالوں میں کو ئٹہ میں ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں 30 کے قر یب اساتذہ کو نشانہ بنا یا گیا ہے اوردوسروں صوبوں سے بلو چستان تعلیم دینے کے لیے آنے والے اساتذہ کو بلوچستان چھوڑنے کی دھمکیاں دی جارہی ہیں جس سے خو فزدہ ہو کر تین سو سے زائد اساتذہ نے اپنا تبادلہ دوسر ے صوبے خصوصاً پنجاب کرانے کے لیے درخواستیں جمع کر ادی ہیں۔

اساتذہ کی ایسوسی ایشن کے ایک عہدیدار کے مطابق صوبے کے مغر بی ،جنوبی اور مشرقی اضلاع میں بدامنی کے باعث سکولوں اور کالجز کے اساتذہ ان علاقوں میں جانے سے گریز کر تے ہیں اور جن کا تبادلہ مر ضی کے بغیر کرایا جاتا ہے وہ ڈیوٹی پر جانے سے پہلے لمبی چھٹی پر چلے جاتے ہیں ۔

سکولو ں اور کالجز کے اساتذ ہ کے صوبے کے دو ر دراز علاقوں میں نہ جانے کے باعث صوبے کی شر ح خواند گی میں کمی آئی ہے محکمہ تعلیم کے ایک رپورٹ کے مطابق صوبے کی شر ح خواند گی 37 فیصد تھی جس میں گزشتہ پانچ سالوں کے دوراان کو ئی خاطر خواہ اضافہ نہیں ہوا۔

دوسر ی طرف ایک ہفتہ قبل کو ئٹہ سے اغوا ء کیے جانے والے بلو چستان ہائیکورٹ کے وکیل کی عد م بازیابی کے خلاف وکلا ء نے چھٹے روز بھی ریلی نکالی اور بلو چستان اسمبلی کے سامنے دو گھنٹے تک دھر نا دیا اور عدالتوں کا بائیکاٹ جاری رکھا ۔

افتخارالحق کو ایک ہفتہ پہلے اُس وقت مسلح افراد نے اغواء کر لیاتھا جب وہ اپنی بچیوں کو سکو ل لے کر جا رہے تھے ۔ افتحار الحق کے سُسر کے مطابق اغوا کاروں کی جانب سے اب تک کو ئی مطالبہ سامنے نہیں آیا ۔

XS
SM
MD
LG