رسائی کے لنکس

کوئٹہ میں بسوں پر فائرنگ کا ساتواں واقعہ، ٹرینوں پر بھی حملے ہوچکے ہیں


کوئٹہ میں بسوں پر فائرنگ کا ساتواں واقعہ، ٹرینوں پر بھی حملے ہوچکے ہیں

کوئٹہ میں بسوں پر فائرنگ کا ساتواں واقعہ، ٹرینوں پر بھی حملے ہوچکے ہیں

کوئٹہ میں منگل کی شام کو زائرئن کی بسوں پر فائرنگ کا یہ رواں سال کا ساتواں واقعہ ہے جبکہ رواں سال ٹرینوں پر بھی حملے ہوچکے ہیں۔ آئے دن پیش آنے والے پرتشدد واقعات اس کے علاوہ ہیں ۔ وائس آف امریکہ کے نمائندے کی جانب سے واقعات کی بنیاد پر اکھٹا کئے گئے اعدادو شمار کے مطابق صرف صوبائی دارلحکومت کوئٹہ اور گردونواح میں بسوں و ٹرینوں پر حملوں اور پرتشدد واقعات کے نتیجے میں گزشتہ 9 ماہ کے دوران مجموعی طور پر 235 افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو چکے ہیں۔

بسوں اور ٹرینوں پر حملوں کے بعد زیادہ تر پرتشدد واقعات عبادت گاہوں اور قانون نافذ کرنے والے ادارں کی چوکیوں یا ان اداروں کی زیر ااستعمال سیکورٹی چیک پوسٹوں پر ہوئے۔

بسوں پر فائرنگ کے واقعات میں 52افراد ہلاک

رواں سال صرف کوئٹہ اور اس کے گرد نواح میں چھ واقعات ایسے پیش آئے جن میں گاڑیوں پر یا ان سے مسافروں کو اتار کر فائرنگ کی گئی۔ ان واقعات میں52 افراد موت سے ہمکنار ہوئے ۔

بائیس جون کو کوئٹہ کے مضافاتی علاقے اختر آباد میں ایران جانے والے زائرین کی بس پر فائرنگ کر کے تین افراد کو قتل کر دیا گیا۔

29 جولائی کو سریاب روڈ پر ایران جانے والے زایرین کو بس اڈے پر فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا گیا ۔

تیس جولائی کو کوئٹہ کے اسپنی روڈ پر وین سے بارہ مسافروں کو اتار کر ہلاک کر دیا گیا ۔

سولہ اگست کو دشت میں دو افراد کو وین سے اتار کر فائرنگ کا نشانہ بنا دیا گیا ۔

20 ستمبر کو ایران جانے والی زائرین کی بس سے اتار کر 26افراد کی جان لے لی گئی ۔

اسی روز اختر آباد میں جب لوگ اپنے پیاروں کی خیریت معلوم کرنے جا رہے تھے تو وین پر فائرنگ کے ذریعے مزید دو افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا ۔

ٹرینوں پر فائرنگ ،تین مسافر جاں بحق ، 30 زخمی

چار مرتبہ کوئٹہ سے پشاور اور کراچی جانے والی ٹرینوں کو بھی نشانہ بنایا گیا جس میں تین مسافر جاں بحق اور 30 زخمی ہوئے ۔

23 مارچ کو کوئٹہ سے پشاور جانے والی کوئٹہ ایکسپریس پر فائرنگ کی گئی۔

دس مئی بھی اسی ٹرین کو نشانہ بنایا گیا جس میں ڈرائیور سمیت تین افراد زخمی ہوئے۔

28 اگست کو ایک مرتبہ پھر کوئٹہ ایکسپریس پر فائرنگ میں تین مسافروں کو ہلاک اور 25 کو زخمی کیا گیا۔

18 ستمبر کو کوئٹہ سے کراچی جانے والی بولان میل کو نشانہ بنایا گیا جس میں دو خواتین زخمی ہوئیں۔

اس کے علاوہ متعدد بار ریلوے ٹریک اکھاڑنے کے علاوہ ٹریک پر بم بھی نصب کیے گئے تاہم اس سے کوئی نقصا ن نہیں ہوا ۔

پرتشدد واقعات میں 39 سیکورٹی اہلکاروں سمیت180 افراد ہلاک

سات ستمبر کو ڈی آئی جی ایف سی کے گھر پر دو خود کش حملوں سمیت دیگر واقعات میں 39 اہلکار شہید ہوئے جبکہ مختلف عبادت گاہوں پر دھماکوں اور ٹارگٹ کلنگ میں سیاسی و مذہبی شخصیات سمیت 141 افراد کو ہلاک کردیا گیا ۔ ان میں مختلف مقامات سے ملنے والی لاشیں ، ٹارگٹ کلنگ اور دھماکوں کے واقعات بھی شامل ہیں ۔

XS
SM
MD
LG