رسائی کے لنکس

اس میلے میں جہاں مختلف سرکاری محکموں نے اسٹال لگائے تھے وہیں مختلف فلاحی تنظیموں نے بھی خواتین کی دلچسپی کی مختلف اشیاء سجائیں۔

پاکستان کا جنوب مغربی صوبہ بلوچستان ایک عرصے سے شورش پسندی کا شکار رہا ہے جس کے اثرات جہاں مختلف شعبہ ہائے زندگی پر مرتب ہوئے وہیں یہاں کی خواتین بھی ذہنی دباؤ اور گھٹن کا شکار رہی ہیں۔

خواتین کو تفریح کے مواقع فراہم کرنے کے لیے بلوچستان حکومت نے محکمہ ترقی نسواں کے زیر اہتمام کیا۔

اس میلے میں جہاں مختلف سرکاری محکموں نے اسٹال لگائے تھے وہیں مختلف فلاحی تنظیموں نے بھی خواتین کی دلچسپی کی مختلف اشیاء سجائیں۔

خواتین اور بچیوں کی ایک بڑی تعداد نے اس میلے میں شرکت کی۔ میلے کی منتظم اور ویمن ڈویلپمنٹ کی ڈپٹی ڈائریکٹر جہاں آرا تبسم نے وائس آف امریکہ کو اس میلے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ تین روزہ تقریبات میں مختلف گرلز اسکولوں اور کالجوں کے درمیان مباحثوں، تقاریر، مصوری اور ایسے ہی صحت مندانہ مقابلے بھی منعقد کیے۔

ان کا کہنا تھا کہ میلے میں تقریباً پچاس کے لگ بھگ اسٹال لگائے گئے تھے پر خواتین کی تیار کردہ گھریلو دستکاری کے نمونے اور ایسی ہی بے شمار چیزیں رکھی گئی تھیں۔

"وہ خواتین جو گھروں میں بیٹھ کر کام کرتی ہیں ان خواتین کے ہنر پارے یہاں رکھے گئے تو ان میں سے بہت سے فروخت بھی ہوئے جس سے انھیں معاشی فائدہ بھی ہوا۔ کوئٹہ بھر کی خواتین نے اس میں بھرپور حصہ لیا اور ایک میلے کا سا سماں تھا جہاں مناسب قیمت پر ان کو چیز بھی مل رہی تھی اور ایک دوسرے سے میل ملاقات کا موقع بھی۔"

میلہ دیکھنے والوں میں نیشنل کمیشن آن دی اسٹیٹس آف ویمن کی رکن رخسانہ احمد علی بھی شامل تھیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اس میلے نے خواتین کی حوصلہ افزائی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

"عورت جب معاشی طور پر مضبوط ہوتی ہے تو اس میں خود اعتمادی آتی ہے وہ اپنے فیصلے خود کرسکتی ہے تو اس حساب سے میں نے دیکھا کہ خواتین اپنے بنائی ہوئی اشیاء فروخت بھی کر رہی تھیں۔۔ میں نے جب ان سے پوچھا تو انھوں نے بتایا کہ اس طرح سے وہ اپنے گھر کی کفالت میں معاون بھی بن گئی ہیں۔"

جہاں آرا تبسم کا کہنا تھا کہ ایسے ہی میلے سبی اور خضدار میں بھی منعقد کیے جائیں گے جب کہ آئندہ آنے والے مہینوں میں یہی سلسلہ جعفرآباد، نصیر آباد اور صحبت پور میں لے جانے کا ارادہ ہے۔

XS
SM
MD
LG