رسائی کے لنکس

پادری کو قرآن جلانے سے روکناہماری ذمہ داری تھی: صدر اوباما


ایک مسجد میں ایک امریکی پادری مسلمانوں سے اظہار یکجہتی کرے ہوئے۔

ایک مسجد میں ایک امریکی پادری مسلمانوں سے اظہار یکجہتی کرے ہوئے۔

صدر اوباما نے کہا کہ قرآن کو نذرِ آتش کرنے جیسی دھمکیوں کو حکومت کی طرف سے سنجیدگی سے لیا جانا اس لیے بھی ضروری تھا کیونکہ اگر ان پر عمل کیا جاتا تو ان کے مطابق "اس سے امریکی مفادات کو دنیا بھر میں نقصان پہنچ سکتا تھا"۔ انہوں نے اپنے موقف کی وضاحت کیلیے اس مسئلے پہ افغانستان میں ہونے والے پرتشدد مظاہروں کا بھی ذکر کیا۔

امریکی صدر بارک اوباما کا کہنا ہے کہ قرآن نذرِ آتش کرنے کا اعلان کرنے والے پادری پر یہ واضح کرنا کہ اسکے اس عمل سے امریکی فوجیوں کی زندگیوں کوخطرات لاحق ہوجائینگے ان کی حکومت کی اخلاقی ذمہ داری تھی۔

جمعہ کے روز وائٹ ہائوس میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صدر اوباما کا کہنا تھا کہ وہ نہیں سمجھتے کہ ان کی حکومت کے پادری ٹیری جونز سے رابطہ کرنے کے فیصلہ کے باعث اس معاملے کو میڈیامیں غیر معمولی پذیرائی ملی۔ ان کے مطابق انتظامی حکام کی جانب سے اس حقیقت کا کھل کر اظہار کیا جانا ضروری تھا کہ ایسے اقدامات امریکی فوجیوں کی زندگی خطرے میں ڈالنے کے ساتھ ساتھ القائدہ کو نئی بھرتیوں میں معاونت فراہم کرینگے۔

صدر اوباما نے کہا کہ قرآن کو نذرِ آتش کرنے جیسی دھمکیوں کو حکومت کی طرف سے سنجیدگی سے لیا جانا اس لیے بھی ضروری تھا کیونکہ اگر ان پر عمل کیا جاتا تو ان کے مطابق "اس سے امریکی مفادات کو دنیا بھر میں نقصان پہنچ سکتا تھا"۔ انہوں نے اپنے موقف کی وضاحت کیلیے اس مسئلے پہ افغانستان میں ہونے والے پرتشدد مظاہروں کا بھی ذکر کیا۔

واضح رہے کہ امریکی سیکریٹری دفاع رابرٹ گیٹس نے قرآن نذرِآتش کرنے کا اعلان کرنے والے فلوریڈا کے پادری ٹیری جونز کو فون کرکے انہیں اپنے ارادے پہ عمل درآمد کرنے سے باز رہنے کا کہا تھا جبکہ ایف بی آئی حکام نے بھی ٹیری جونز سے ان کے ورلڈ آؤٹ ریچ سینٹر نامی چرچ میں ملاقات کی تھی۔

XS
SM
MD
LG