رسائی کے لنکس

آذربائیجان میں ریڈیو فری یورپ کے دفتر پر چھاپا


باکو میں ریڈیو فری یورپ کا عملہ

باکو میں ریڈیو فری یورپ کا عملہ

پراسیکیوٹر کے دفتر نے امریکی خبر رساں ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ ایک "سنگین جرم" کی تحقیقات کے لیے تلاشی کی یہ کارروائی کی گئی۔

آذربائیجان میں سرکاری وکلا نے یہ کہہ کر امریکی اعانت سے چلنے والے ایک نشریاتی ادارے پر چھاپہ مارا کہ ان کے پاس اسے بند کرنے کے عدالتی احکامات ہیں۔

ریڈیو فری یورپ/ریڈیو لبرٹی نے جمعہ کو بتایا کہ دارالحکومت باکو میں ان کے بیورو میں پراسیکیوٹر آفس کے دس افسران داخل ہوئے جن کے ساتھ مسلح پولیس اہلکار بھی تھے۔

ادارے نے ایک تصویر جاری کی ہے جس میں عملے کے لگ بھگ 20 ارکان کو ایک جگہ بیٹھے دکھایا گیا ہے جب کہ حکام بیورو کی تلاشی لے رہے ہیں۔

ریڈیو فری یورپ/ریڈیو لبرٹی نے حکام کے حوالے سے بتایا کہ یہ کارروائی "غیر ملکی امداد سے چلنے والے اداروں" کے خلاف جاری تحقیقات کا حصہ ہے۔

پراسیکیوٹر کے دفتر نے امریکی خبر رساں ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ ایک "سنگین جرم" کی تحقیقات کے لیے تلاشی کی یہ کارروائی کی گئی۔

رواں ماہ کے اوائل میں آذربائیجان کی ایک عدالت نے ریڈیو فری یورپ کی ایک صحافی کو مقدمے سے پہلے دو ماہ تک تحویل میں لیے رکھنے کا حکم دیا تھا۔ خاتون صحافی پر الزام تھا کہ انھوں نے ایک شخص کو خودکشی کے لیے مجبور کرنے کی کوشش کی۔

امریکی حکام نے خاتون صحافی خدیجہ اسماعیلوا کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ مقدمہ آذربائیجان حکومت کی طرف سے اپنے ناقدین کو خاموش کروانے اور آزادی صحافت پر پابندی لگانے کی تازہ کوشش ہے۔

ریڈیو فری یورپ کے ایڈیٹر انچیف نیناد پیجک نے خدیجہ پر لگائے گئے الزامات کو "شرمناک" قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ یہ "اس صحافی کو خاموش کروانے کے لیے دو سال سے جاری مہم کا حصہ ہے، جس نے آذربائیجان حکومت کی بدعنوانی اور انسان حقوق کی خلاف ورزیوں کی تحقیقات کی تھیں۔"

دو ماہ قبل حکام نے خدیجہ کو آذربائیجان سے بیرون ملک جانے پر پابندی عائد کی تھی۔ انھیں واشنگٹن اور پراگ میں بین الاقوامی اجلاسوں میں شرکت کرنا تھی۔

XS
SM
MD
LG