رسائی کے لنکس

دل کے مریضوں کو رمضان میں مزید محتاط رہنے کی ضرورت


دل کے مریضوں کو رمضان میں مزید محتاط رہنے کی ضرورت

دل کے مریضوں کو رمضان میں مزید محتاط رہنے کی ضرورت

”ہمیں اپنے بلڈ پریشر کا پتا ہونا چاہیے، ہمیں اپنا وزن معلوم ہونا چاہیے، کولیسٹرول کا پتا ہونا چاہیے، چینی جو کہ ’سفید زہر‘ کہلاتی ہے کم سے کم استعمال کریں، اپنے وزن کو اپنی جسامت کے مطابق رکھیں۔ توند کو نہ نکلنے دیں جیسے جیسے وزن بڑھتا ہے یا کمر کے گر چکنائی جمع ہونے لگتی ہے تو اس سے ساری مشکلات شروع ہوتی ہیں اسی سے ذیابیطس شروع ہوتی ہے، بلڈ پریشر، دل کی بیماریاں شروع ہوجاتی ہیں۔روزانہ ورزش کرنے والوں میں ڈپریشن بھی کم ہوتا۔“

طبی ماہرین امراض قلب کو دنیا بھر میں ہونے والی اموات کی سب سے بڑی وجہ قرار دیتے ہیں لیکن جنوبی اورجنوب مشرقی ایشیاکے خصوصاََ زیادہ آبادی والے ممالک بشمول پاکستان میں اس شرح میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے اور اس کی ایک بڑی وجہ ذیابیطس یعنی شوگر کا مرض ہے جس کے مریضوں کی تعداد دن بدن بڑھتی جارہی ہے۔

مقامی ماہرین کا کہنا ہے کہ ذرائع ابلاغ پر تشہیر اور آگاہی کی دیگر مہمات سے لوگوں کو اس مرض سے متعلق معلومات تو حاصل ہورہی ہیں تاہم لوگوں کی ایک بڑی تعداد اپنے غیر صحت مندانہ طرز زندگی کو تبدیل نہ کرنے کی وجہ سے ذیابیطس، بلڈ پریشر اور دل کی بیماریوں کا شکار ہورہی ہے۔لیکن ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ رمضان کے مہینے میں خاص طور پر ایسے افراد کوجنہیں دل کی بیماری ہے بہت زیادہ احتیاط برتنے کی ضرورت ہے۔

اسلام آباد کے سرکاری اسپتال ’پولی کلینک‘ میں شعبہ امراض قلب کے سربراہ ڈاکڑ شہباز قریشی نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ ایسے مریض جنہیں اکثر درد کی شکایت رہتی ہے اور خون کو پتلا رکھنے کی دوا روزانہ باقاعدگی سے لیتے ہیں اُنھیں روزہ نہیں رکھنا چاہیے۔” مگر ایسے مریض جو دوا کھا رہے ہیں اور انھیں کوئی درد وغیرہ نہیں ہے وہ روزہ رکھ سکتے ہیں۔جن مریضوں کوشوگر ہے انھیں چاہیے کہ وہ افطار میں دوا کی خوراک بڑھا دیں اور سحر میں کم کردیں۔“

ڈاکٹر شہباز قریشی

ڈاکٹر شہباز قریشی

ڈاکٹر شہباز کہتے ہیں کہ دل کے مریضوں کو سحرمیں خاص طور پر کھانا کم اور پانی زیادہ پینے کی ضرورت ہے کیونکہ جسم میں پانی کی کمی سے خون گاڑھا ہونے کا اور مریض کی حالت بگڑنے کا خدشہ ہے۔” افطار میں ایک دم پیٹ بھر کے نہ کھائیں تھوڑا تھوڑا کھائیں، سونے سے کم ازکم دو تین گھنٹے پہلے تک کھانا کھالیں۔ روزہ ہو یا نہ ہو کھانا ہمیشہ میانہ روی سے کھائیں۔ بہت چکنائی نہیں ہونی چاہیے کھانے میں، زیادہ سبزیاں اور پھل کھائیں، گوشت کم ہو چکن کھاسکتے ہیں۔“

امراض قلب کے ماہرین عمومی طور پر صحت مند افراد کو تواتر سے روزانہ45 منٹ ورزش کرنے، کھانے میں احتیاط برتنے، بھوک رکھ کرکھانا کھانے اور کھانے کے بعد ورزش والا کام نہ کرنے کے مشورے دیتے ہیں۔ سگریٹ نوشی اور تمباکو پینے کے نت نئے انداز بشمول’ شیشہ‘ پینے کے رجحان میں اضافہ بھی نوجوانوں میں دل کے امراض کی وجہ بنتے جارہے ہیں۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ دل کا دورہ پڑنے کے بعد مریض کو جس قدر جلد ممکن ہو سکے اسپتال پہنچانے سے اُس کی زندگی بچنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ عام لوگوں میں ایسی علامات کے بارے میں آگاہی پیدا کی جائے جو کسی صحت مند شخص کو دل کا دورہ پڑنے پر ظاہر ہوسکتی ہیں۔

دل کے مریضوں کو رمضان میں مزید محتاط رہنے کی ضرورت

دل کے مریضوں کو رمضان میں مزید محتاط رہنے کی ضرورت

ڈاکٹر شہباز کہتے ہیں”سینے میں شدید درد کے علاوہ جبڑے، گردن یا دونوں بازوؤں میں درد ہوسکتا ہے۔ سینے کی پیچھے کمر میں سخت کھینچاؤ اور درد محسوس ہوسکتا ہے۔ٹانگوں میں سے جان نکل رہی ہوتی ہے اور کئی دفعہ پسینہ آئے گا کئی دفعہ بالکل نہیں آئے گا۔ یعنی کبھی صرف ماتھے پر پسینہ ہوگا ہلکا سا یا پھر مریض پسینے میں شرابور ہوجائے گا۔ میں ہمیشہ کہتا ہوں کہ جب بھی ناف کے اوپر یا پیچھے درد ہو اس کو ہمیشہ دل کا درد سمجھ کر پہلے رول آؤٹ کریں اگر وہ دل کا درد نہیں ہے تو پھر کسی اور طرف دھیان دیں۔ کئی دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ سینے میں سامنے درد ہوتا ہی نہیں۔ “

ان کا کہنا تھا کہ ایسے لوگ جنہیں ذیابیطس کا مرض ہوتا ہے ان میں کئی دفعہ”دل کا خاموش دورہ“ واقع ہوتا ہے۔ مطلب انھیں درد محسوس نہیں ہوتا۔” ان کا سانس پھولتا ہے ۔ بیٹھے بیٹھے اچانک سانس تیز ہوجائے گا۔ تو اس لیے ذیابیطس کے مریضوں کو زیادہ خیال رکھنا چاہیے کیونکہ ان میں دل کے دورے کے امکانات عام لوگوں کی نسبت زیادہ ہوتے ہیں۔“

ڈاکٹر شہباز کہتے ہیں کہ دل کے دورے کی صورت میں اسپتال لے جانے سے قبل چند ضروری تدابیر مریض کے علاج میں معاون ہوسکتی ہیں۔” دو اسپرین کی گولیاں ایک دم سے چبا لیں اس سے خون پتلا ہوتا ہے اور جو رکاوٹ شریان میں بن رہی ہوگی وہ کسی حد تک کم ہوسکے گی۔“ان کے بقول ایک اورکوشش ضرور کریں کہ اپنے گھر یا دفتر میں کچھ بنیادی معلومات لکھ کر رکھیں کہ اس طرح کی بیماری میں کس اسپتال میں جانا ہے کس سے رابطہ کرنا ہے تاکہ ہنگامی صورت میں نمٹنے میں آسانی ہو۔

”ہمیں اپنے بلڈ پریشر کا پتا ہونا چاہیے، ہمیں اپنا وزن معلوم ہونا چاہیے، کولیسٹرول کا پتا ہونا چاہیے، چینی جو کہ ’سفید زہر‘ کہلاتی ہے کم سے کم استعمال کریں، اپنے وزن کو اپنی جسامت کے مطابق رکھیں۔ توند کو نہ نکلنے دیں جیسے جیسے وزن بڑھتا ہے یا کمر کے گر چکنائی جمع ہونے لگتی ہے تو اس سے ساری مشکلات شروع ہوتی ہیں اسی سے ذیابیطس شروع ہوتی ہے، بلڈ پریشر، دل کی بیماریاں شروع ہوجاتی ہیں۔روزانہ ورزش کرنے والوں میں ڈپریشن بھی کم ہوتا۔“

ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ چالیس، پینتالیس سال سے زائد عمر کے افراد کو سال میں ایک بار ماہر قلب سے ضرور مشورہ کرنا چاہیے۔

XS
SM
MD
LG