رسائی کے لنکس

اسلامک سینٹر:روزیدار تراویح اور عبادات میں شریک ہوتے ہیں

  • محمد الشناوی
  • خالد حمید

اسلامک سینٹر:روزیدار تراویح اور عبادات میں شریک ہوتے ہیں

اسلامک سینٹر:روزیدار تراویح اور عبادات میں شریک ہوتے ہیں

دنیا بھر سے تعلق رکھنے والے مسلمان اِس ایک جگہ پر اِکٹھے ہوتے ہیں، اور فاصلوں اور جغرافیائی خطوں سے قطع نظر، وہ یہ محسوس کرتےہیں کہ وہ ایک ہیں، ایک جیسے ہیں۔ امریکی مسلمان روایتی انداز میں رمضان المبارک کے روزے رکھتے ہیں، افطار کے روایتی کھانے تیار کرتے ہیں اور خاندان کے افراد اور دوست ایکساتھ مل کر روزہ افطار کرتے ہیں: امام عبد اللہ

امریکہ بھر میں مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد موجود ہےجِن کا تعلق دنیا کےمختلف ممالک سے ہے۔ وہ اپنے اپنے علاقوں کی روایات اور رسومات کے پیشِ نظر رمضان المبارک کے مقدس مہینے کو اپنے طریقے سے مناتے ہیں اور اپنے غیر مسلم دوستوں کو اپنی اِن روایات اور عقائد کے بارے میں بتاتے ہیں۔

اِس بارے میں’ وائس آف امریکہ‘ کے محمد الشناوی اپنی رپورٹ میں بتاتے ہیں کہ دارالحکومت واشنگٹن میں ایک بڑا اسلامک سینٹر موجود ہے جہاں مختلف ممالک اور علاقوں سے تعلق رکھنے والے مسلمان رمضان المبارک کی تراویح اور عبادات کے لیے اِکٹھے ہوتے ہیں۔

یہ دنیا کے چند ایسے مراکز میں سے ایک ہے جہاں مختلف علاقوں اور رنگ و نسل کے مسلمان نماز اور عبادات کی بجا آوری کے لیے آتے ہیں اور اب جب کہ رمضان المبارک شروع ہوچکا ہے، دنیا بھر سے تعلق رکھنے والے امریکی مسلمان اِس مرکز میں شام کے وقت اِکٹھے ہوکر ایک ساتھ روزہ افطار کرتے ہیں اور رات کو ایک ساتھ نمازِ تراویح ادا کرتے ہیں۔

اسلامک سینٹر واشنگٹن کے سربراہ، امام عبد اللہ کہتے ہیں کہ دنیا بھر سے تعلق رکھنے والے مسلمان اِس ایک جگہ پر اِکٹھے ہوتے ہیں، اور فاصلوں اور جغرافیائی خطوں سے قطع نظر، وہ یہ محسوس کرتےہیں کہ وہ ایک ہیں، ایک جیسے ہیں۔ امریکی مسلمان روایتی انداز میں رمضان المبارک کے روزے رکھتے ہیں، افطار کے روایتی کھانے تیار کرتے ہیں اور خاندان کے افراد اور دوست ایکساتھ مل کر روزہ افطار کرتے ہیں۔

نادیہ کا تعلق مراقش سے ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ رمضان کے موقعے پر اُنھیں اپنا ملک یاد آتا ہے۔ اُن کا ایک بڑا خاندان ہے اور رمضان میں خاندان کے سب افراد ایک ساتھ مل کر روزہ کھولتے ہیں۔ اُنھوں نے بتایا کہ ایک بڑا فرق یہ ہے کہ امریکہ میں آپ کا خاندان بڑا نہیں ہوتا اور افطار کے وقت میز کے گِرد دس افراد کے بجائے صرف دو لوگ ہوتے ہیں۔

نادیہ کے شوہر، محمد ابراہیم کا کہنا تھا کہ خود کو حالات کے مطابق ڈھالنا کوئی مشکل نہیں۔ اُنھوں نے کہا کہ اُن پر روزہ فرض ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ: ’میں روزہ رکھتا ہوں اور مجھے اِس بات کی کوئی پرواہ نہیں ہوتی کہ میرے اِرد گِرد دوسرے لوگ کیا کر رہے ہیں‘۔

آڈیو رپورٹ سنیئے:

XS
SM
MD
LG