رسائی کے لنکس

سینیر کانگریس مین رینگل پر بے قائدگی کے الزامات ثابت


کانگریس مین چارلس رینگل

کانگریس مین چارلس رینگل

نیویارک سے ڈیموکریٹ کانگریس مین چالس رینگل پر گیارہ الزامات ثابت ہوگئے جن میں بیشترالزامات مالی بے ضابطگیوں سے متعلق ہیں۔ یہ کاروائی ایوان نمائندگان کی ایک سب کمیٹی نے کی تھی۔

ان پر اپنی ملکیت میں موجود ڈومینیکن ری پبلک کے ایک وسیع و عریض مکان سے ہونے والی آمدنی کے گوشوارے جمع نہ کرانے اور ایک کالج پبلک پالیسی سینٹرکے لئے غیر معقول طریقے سے رقم جمع کر نے اور اس سے متعلق قانون کی خلاف ورزیوں کے بھی الزامات ہیں۔

ان پر جولائی میں تیرہ خلاف ورزیوں کے الزامات عائد کئے گئے تھے ۔ اسی سالہ کانگریسی رکن کو ہاوٴس ایتھکس کمیٹی کے روبرو پیش ہونا تھا تاہم وہ ایسا کرنے میں ناکام رہے ۔ اس سے قبل پیر کے روز وہ کمیٹی کے سامنے یہ بیان دے کر چلے گئے تھے کہ ان کے دفاع کی غرض سے کوئی وکیل فی الحال موجود نہیں ہے۔

معاملے کی شنوائی کے لئے ترتیب دیئے گئے پینل کی سربراہ ڈیموکریٹ زو لوفگرے نے سماعت کو 'مشکل ' قراردیا تھا تاہم انہوں نے یہ یقین بھی ظاہر کیا تھا کہ سماعت منعقد کرنے والا پینل انصاف کے ساتھ سارے معاملے کی سماعت کرے گا۔ اس دوران سب کمیٹی کے ری پبلکن رکن مائیکل میک کال نے امید ظاہر کی تھی کہ منگل کے روز ہونے والے فیصلے سے ایوان نمائندگان کی ساکھ کو بحال کرنے میں مدد ملے گی۔

ایتھکس کمیٹی اب رینگل کے لئے مناسب سزا تجویز کرنے کی غرض سے سماعت کرے گی جو جرمانے پر بھی منتج ہوسکتی ہے۔ تجویز کردہ سزا پر ایوان نمائندگان غور کرے گا۔

رینگل پچھلے چالیس سالوں سے ایوان میں اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ وہ گزشتہ سال تک ٹیکس اور تجارتی پالیسی کی نگرانی کرنے والی بااختیار کمیٹی کے چیئرمین بھی رہے۔ وہ پہلی مرتبہ نیویارک سے 1970ء میں کانگریس رکن کی حیثیت سے منتخب ہوئے۔ انہوں نے رواں ماہ ہونے والے انتخابات میں بھی اسی فیصد ووٹ حاصل کئے تھے۔

XS
SM
MD
LG