رسائی کے لنکس

برطانیہ: جنسی زیادتی کا شکار خواتین کو درپیش مشکلات


اگرچہ جنسی زیادتی کا نشانہ بننے والی 90 فیصد خواتین اپنے حملہ آور کی شناخت کر سکتی ہیں مگر ان میں سے صرف 15 فیصد ہی پولیس میں شکایت درج کراتی ہیں۔

برطانیہ میں ایک تحقیق کے نتیجے میں یہ چونکا دینے والی حقیقت سامنے آئی ہےکہ جنسی زیادتی کا نشانہ بننے والی ہر 30 خواتین میں سے بمشکل ایک ہی اپنے مجرم کو انصاف کے حصول کے لیے عدالت کے کٹہرے میں لانا چاہتی ہے۔
گزشتہ ہفتے جنسی زیادتی کے جرائم اور اس سے متعلق قانونی اداروں کی کارکردگی پر ایک رپورٹ شائع کی گئی ہے جس کے مطابق برطانیہ میں ہر سال جنسی زیادتی کا نشانہ بننے والے افراد کی کل تعداد تقریبا 95 ہزار ہے۔
گزشتہ تین برسوں کے اعدادوشمار کے مطابق 12 ماہ کے دوران زیادتی کا شکار ہونے والی خواتین کی شرح 2.5 فیصد رہی جبکہ 85 ہزار میں سے صرف 0.5 فیصد خواتین نےپولیس میں اس جرم کے خلاف شکایت درج کرائی۔
ادارہ برائے قومی اعدادوشمار، ہوم آفس اور منسٹری فار آفس نے پہلی دفعہ مشترکہ طور پر جنسی زیادتی کے جرائم، پولیس کی کارکردگی، متعلقہ عدالتی نظام اور جنسی زیادتی کا شکار ہونے والی خواتین کے رویے کے بارے میں ایک سرکاری رپورٹ جاری کی ہے۔
سرکاری رپورٹ کے اعداد و شمار کے مطابق ایک سال کے دوران 15620 افراد کے خلاف جنسی زیادتی کی شکایات درج کرائی گئیں جن میں سے 3850 کیسوں کو پولیس یا کورٹ نے نامکمل شواہد کی وجہ سے خارج کر دیا، 2910 کیسوں پر کورٹ میں کاروائی کی گئی جن میں سے صرف 1070 افراد پر جنسی زیادتی کا جرم ثابت ہونے پر انھیں سزا سنائی گئی۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ہر پانچ میں سے ایک خاتون اس ظلم کا شکار ہوتی ہے جبکہ خواتین اپنے ساتھ ہونے والے اس واقعہ کو پوری زندگی نہیں بھلا پاتی ہیں۔
اسی طرح ہر سات میں سے ایک طالبہ دوران تعلیم اس ظلم کا نشانہ بنائی جاتی ہے۔
اگرچہ جنسی زیادتی کا نشانہ بننے والی 90 فیصد خواتین اپنے حملہ آور کی شناخت کر سکتی ہیں مگر ان میں سے صرف 15 فیصد ایسے مجرموں کو بے نقاب کرنے کے لیے پولیس میں شکایت درج کراتی ہیں۔
ایسی خواتین نے تحقیق کاروں کو بتایا کہ اس واقعہ کا ذکر انھیں تکلیف پہنچاتا ہے، وہ معاشرہ کا سامنا کرنے کی ہمت نہیں رکھتی ہیں اور یہ ان کے پورے خاندان کی عزت کا معاملہ بھی ہوتا ہے۔ اسی لیے اس جرم کی پردہ پوشی کرنے کا رویہ عام پایا جاتا ہے۔
متعلقہ کورٹ میں کاروائی سے قبل ہی ان مجرموں کے خلاف کی جانے والی سینکڑوں شکایات واپس لے لی جاتی ہے کیونکہ خواتین کمرہ عدالت میں مجرم پر جرم ثابت کرنے کے لیے ایک بار پھر اسی تکلیف دہ عمل کو دہرانے کی ہمت رکھتی ہیں۔

اس کے علاوہ گواہان کی غیر موجودگی میں کیس بہت کمزور ہوجاتا ہے۔
اس رپورٹ میں بتایا گیا ہےکہ ایسے کیسوں میں جرم ثابت کرنے میں سات سو سے زائد دن یعنی تقریبا دو سال کا عرصہ لگ جاتا ہے۔ کئی مجرموں کو 16 سال سے کم عمر ہونے کی وجہ سے بھی چھوڑ دیا جاتا ہے۔
جنسی زیادتی کا نشانہ بننے والی عورت چاہے دنیا کے کسی بھی خطے سے تعلق رکھتی ہو اس کا درد مشترک ہوتا ہے۔ اپنے ساتھ ہونے والی زیادتی پر پردہ پوشی کا رویہ بھی مشترک ہےحتی کہ معاشرے میں ظلم کا شکار بننے والی عورت کی کردار کشی کا رویہ بھی مشترک پایا جاتا ہے۔
عورت چاہے مشرق کی ہو یا مغرب کی، تقدس کی پامالی پر اسے چپ رہنے پر مجبور کیا جاتا ہے اور اس کے انسانی حقوق پر خاندان کی عزت کو ترجیح دی جاتی ہے۔ عورت اپنے آپ کو کبھی بھی محفوظ خیال نہیں کرتی ہے۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG