رسائی کے لنکس

امام بارگاہ پر حملہ، جڑواں شہروں میں سکیورٹی سخت


فائل فوٹو

فائل فوٹو

کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے ایک دھڑے جماعت الاحرار کے ترجمان نے ہفتہ کو ایک بیان میں راولپنڈی میں امام بارگاہ پر حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

پاکستان کے شہر راولپنڈی میں جمعہ کی شب ایک امام بارگاہ ابومحمد رضوی کے مرکزی دروازے پر ہونے والے خودکش بم حملے کے بعد شہر بھر میں سکیورٹی مزید بڑھا دی گئی۔

وفاقی دارالحکومت میں بھی پولیس نے شہر کے داخلی اور خارجی راستوں کی نگرانی بڑھانے کے علاوہ اہلکاروں کے گشت میں اضافہ کر دیا ہے۔

اُدھر کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے ایک دھڑے جماعت الاحرار کے ترجمان نے ہفتہ کو ایک بیان میں راولپنڈی میں امام بارگاہ پر حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

شدت پسند تنظیم کے ترجمان احسان اللہ احسان نے اپنے بیان میں مزید ایسے حملوں کی دھمکی دی ہے۔

طالبان کی طرف سے اس حملے کی ذمہ داری قبول کرنے کے دعویٰ پر سرکاری طور پر کوئی بیان سامنے نہیں آیا۔

وزیراعظم نواز شریف نے اپنے ایک بیان اس حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے دہشت گردی کے خاتمے کے عزم کو دہرایا۔

خودکش بم دھماکے میں کم از کم سات افراد ہلاک جب کہ لگ بھگ 15 زخمی ہو گئے تھے جو راولپنڈی کے اسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔

صوبہ پنجاب کے سابق وزیر قانون اور حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) کے رکن صوبائی اسمبلی رانا مشہود نے ہفتہ کو ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو میں کہا کہ حکومت دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے پرعزم ہے۔

’’پاکستان کی تمام سیاسی جماعتیں اکٹھی ہوئی ہیں، حکومت وقت اور فوج سب ایک ہی صفحے پر ہیں۔ عزم یہ ہے کہ ۔۔۔ اس ملک کے نظریے اور آئین کے خلاف بندوق اٹھانے والا اس ملک کا دشمن ہے اور اس کے خلاف ہم اکٹھے ہیں۔‘‘

پولیس کے مطابق جعمہ کو راولپنڈی میں خودکش حملہ آور امام بارگاہ میں داخل ہونا چاہتا اور جب اُسے روکا گیا تو اس نے اپنے جسم سے بندھے بارودی مواد میں دھماکا کر دیا۔

عینی شاہدین کے مطابق امام بارگاہ ابومحمد رضوی میں محفل میلاد جاری تھی جس میں لگ بھگ 150 افراد شریک تھے۔

مقامی لوگوں کے مطابق علاقے میں معمول کی لوڈشیڈنگ تھی اس لیے خودکش حملہ آور اندھیرے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے گلیوں سے ہوتا ہوا، امام بارگاہ کے قریب پہنچنے میں کامیاب ہو گیا۔

راولپنڈی کے ایک گنجان آباد علاقے میں واقع امام بارگاہ پر یہ خودکش حملہ ایسے وقت کیا گیا جب پاکستانی فوج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ملک بھر میں دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں تیز کر رکھی ہیں۔​

اُدھر جمعہ کی شب راولپنڈی کے اڈیالہ جیل میں ایک مجرم خالد محمود کو پھانسی دی گئی۔ پاکستانی فضائیہ کے اہلکار خالد محمود کو چار دیگر افراد کے ہمراہ 2003ء میں ملک کے سابق فوجی صدر پرویز مشرف پر حملہ کرنے کی منصوبہ بندی پر سزائے موت سنائی گئی تھی۔

چار میں سے دو افراد کو پھانسی دی جا چکی ہے۔ واضح رہے کہ جمعہ کو ہی لاہور ہائی کورٹ کے راولپنڈی بینچ نے پرویز مشرف پر حملہ کرنے کے جرم میں سزا یافتہ ان افراد کی درخواست کی سماعت کے دوران حکومت کا موقف جاننے کے لیے وفاق کو نوٹس جاری کیا تھا۔

پشاور کے اسکول پر طالبان کے مہلک حملے کے بعد گزشتہ ماہ وزیراعظم نے دہشت گردی کے جرم میں سزائے موت پانے والے قیدیوں کی سزاؤں پر عمل درآمد کے حوالے عائد پابندی ختم کرنے کا اعلان کیا تھا، جس کے بعد سے اب تک 10 شدت پسندوں کو پھانسی دی جا چکی ہے۔

XS
SM
MD
LG