رسائی کے لنکس

امریکی ویزا کے اجرا میں تاخیر پر رضا ربانی کا سخت ردعمل


چیئرمین سینیٹ رضا ربانی (فائل فوٹو)

جمعیت علماء اسلام (ف) سے تعلق رکھنے والے مولانا غفور حیدری کو پاکستان کی حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر صلاح الدین ترمذی کے ہمراہ اتوار کو نیویارک کے لیے روانہ ہونا تھا۔

پاکستان کی پارلیمان کے ایوان بالا کے چیئرمین رضا ربانی نے سینیٹ کے ڈپٹی چیئرمین مولانا غفور حیدری کے لیے امریکی ویزے کے اجرا میں تاخیر پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سینیٹ کا کوئی وفد اس وقت تک امریکہ کا دورہ نہیں کرے گا جب تک امریکی سفارت خانہ یا حکومت کی طرف سے اس بارے میں کوئی وضاحت نہیں کی جاتی ہے۔

جمعیت علماء اسلام (ف) سے تعلق رکھنے والے مولانا غفور حیدری نے پاکستان کی حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر صلاح الدین ترمذی کے ہمراہ اتوار کو نیویارک کے لیے روانہ ہونا تھا جہاں انہیں اقوام متحدہ کے صدر دفتر میں انٹرنیشنل پارلیمانی یونین کے ایک اجلاس میں شرکت کرنی تھی۔ یہ اجلاس 13 اور 14 فروری کو اقوام متحدہ کی میزبانی میں منعقد ہو رہا ہے۔

اس اجلاس کے ایجنڈے میں ماحولیاتی تبدیلی کے حوالے سے پائیدار ترقی کے اہداف، زرعی پیداوار، بھوک اور غذائی تحفظ، صحت عامہ کے خطرات، آلودگی اور دیگر نقصان دہ مواد کے معاملات پر غور کرنا شامل ہے۔

پاکستانی سینیٹ سیکرٹریٹ کی طرف سے جاری بیان کے مطابق چیئرمین رضا ربانی کی ہدایت پر اب یہ دورہ منسوخ کر دیا گیا ہے۔

دوسری طرف صلاح الدین ترمذی نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ انہیں بھی دورے کی منسوخی سے آگاہ کر دیا گیا ہے لیکن انہوں نے اس کی مزید تفصیل نہیں بتائی۔

بیان کے مطابق رضا ربانی نے یہ ہدایت بھی کی ہے کہ، "جب تک یہ (ویزے میں تاخیر کا ) معاملہ حل نہیں ہو جاتا پاکستان کی سینیٹ، اس کی کوئی بھی قائمہ کمیٹی اور سینیٹرز سرکاری حیثیت میں کسی بھی امریکی سفارت کار یا کانگریس کے اراکین اور کسی امریکی وفد کو خوش آمدید نہیں کہیں گے"

اس بارے میں اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے کا ردعمل جاننے کی کوشش کی گئی تاہم ان کی طرف سے تاحال کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔ شائع شدہ اطلاعات کے مطابق سفارتخانے کا کہنا ہے کہ وہ رازداری کے قوانین کی وجہ سے اس پر کوئی رد عمل ظاہر نہیں کرے گا۔

پارلیمانی اور سیاسی امور کے ماہر احمد بلال محبوب کہتے ہیں کہ رضا ربانی اپنے ردعمل میں حق بجانب ہیں کیونکہ ان کے بقول یہ ایک فرد کا نہیں ایک ادارے کا معاملہ ہے۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امریکہ کو اس معاملے کی نزاکت کا خیال رکھنا چاہیئے۔

" خاص طور پر جب وہ ایک بین الاقوامی ادارے کی دعوت پر جا رہے ہیں اور ماضی میں کئی ملکوں نے اس بارے میں کئی احتجاج کیے ہیں کہ وہ اقوام متحدہ کے اجلاس میں شرکت کے لیے جا رہے ہوتے ہیں اور انہیں ویزا نہیں ملتا، تو یہ اسی طرح کی صورت حال ہے۔ کم از کم یہ ہونا چاہیئے تھا کہ امریکی حکومت کو اس کی وضاحت کر دینی چاہیئے تھی کہ ہم ویزا نہیں دے سکتے ہیں۔۔۔ان کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ ویزا سے انکار کریں لیکن غیر معینہ وقت کے لیے اس میں تاخیر کرنا یہ غیر مناسب طریقہ ہے۔"

جمعیت علماء اسلام (ف) پاکستان کے دائیں بازو کی ایک بڑی مذہبی و سیاسی جماعت ہے جو امریکہ کی پاکستان اور خطے سے متعلق پالیسی پر تنقید کرتی رہتی ہے۔ حال ہی میں جماعت کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے قومی اسمبلی میں صدر ٹرمپ کی طرف سے دنیا کے سات مسلمان اکثریتی ملکوں کے شہریوں کی امریکہ میں داخلے پر عارضی پابندی عائد کرنے کے حکم نامے پر تنقید کی تھی اگرچہ اب عدالتی حکم کے تحت اس حکم نامے پر عمل درآمد معطل کر دیا گیا ہے۔

دوسری طرف امریکی حکومت کا موقف ہے کہ یہ پابندی عارضی تھی اور اس کا مسلمانوں سے کوئی تعلق نہیں ہے کیونکہ بڑی تعداد میں دیگر مسلمان ملکوں پر ایسی کوئی پابندی عائد نہیں کی گئی ہے۔

یہ امر قابل ذکر ہے کہ جن ممالک پر عارضی پابندی عائد کی گئی تھی ان میں پاکستان شامل نہیں تھا۔

XS
SM
MD
LG