رسائی کے لنکس

ہالی وڈ کے فلمی ستاروں کی بدترین کارکردگی کا ایوارڈ


کرسٹین اور رابرٹ

کرسٹین اور رابرٹ

ایک ایسے ایوارڈ کی نامزدگی کا بھی اعلان ہوا جس کے بعد کئی فلمی ستاروں کےچہروں سے مسکراہٹ غائب ہو گئی ہے

ہالی وڈ کی فلمی صنعت کی سرگرمیاں ان دنوں عروج پر ہیں۔ نئے سال کی آمد کے ساتھ ہی فلمی صنعت میں گذشتہ سال ریلیز کی جانے والی فلموں اور فلمی ستاروں کو ان کی کارکردگی پر ایوارڈ دیےجانے والی تقریبات کا اہتمام کیا جارہا ہے، گویا فلمی ایوارڈ کا میلہ سجنے کو ہے۔

لندن میں بھی برٹش اکیڈمی ایوارڈ کی نامزدگیوں کا چرچا جاری ہے اور ساتھ ہی آسکر ایوارڈ کی نامزدگیوں پر بھی بحث و مباحثے کیےجا رہے ہیں۔ لیکن، انہی خبروں کے درمیان ذکر ہو جائے اس خبر کا جس کی وجہ سے کئی فلمی ستاروں کے چہروں کی مسکراہٹ غائب ہو گئی ہے۔ یہ ذکر ہے’گولڈن رس بیری ایوارڈز‘ کا، یہ ایوارڈز ہالی وڈ کی فلمی صنعت میں بدترین کارکردگی پر فلمی ستاروں کو دئیے جاتے ہیں۔

ایوارڈ کی یہ تقریب حسب ِ روایت آسکر سے ایک روز قبل منعقد کی جاتی ہے۔ اس برس یہ تقریب 23 فروری کو منعقد کی جائے گی۔

’ریس بیری ایوارڈز‘ یا ’رازیز‘ ایوارڈز کا آغاز 1981 میں اداکار جون ولسن کی جانب سے کیا گیا تھا۔ اس برس’ٹوالائٹ‘ فلم سیریز دس مختلف شعبوں میں 11نامزدگیوں کے ساتھ ان ایوارڈز کی سب سے بڑی فلم کی حیثیت سے سامنے آئی ہے۔جون ولسن نے اس ایوارڈ کی تینتیسویں تقریب کے حوالے سے کہا، ’’ٹوالائٹ فلم کو ’رازیز‘ میں وہی اہمیت حاصل ہے جو ’لارڈ آف دا رنگ‘ کو آسکرایواڈ میں حاصل ہوئی تھی‘۔

پروڈیوسر ’ایڈم سینڈلر‘ کی باپ اور بچھڑے ہوئے بیٹے کی محبت پر بنائی گئی جذباتی فلم ’ڈیئٹس مائی بوائے‘ گذشتہ سال کی بدترین فلموں میں 9 نامزدگیوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے۔

بدترین اداکاری پر ایوارڈ وصول کرنے والوں کواسٹیج پر بڑی جرات کا مظاہرہ کرنا ہوتا ہے۔ سال 2011 میں بدترین ادکارہ کا ایوارڈ آسکر انعام یافتہ اداکارہ ہیلی بیری کو دیا گیا تھا، جنھوں نے اس ایوارڈ کو ٹھیک اسی انداز میں وصول کیا جیسا کہ، انھوں نے آسکرایوارڈ وصول کیا تھا۔ اس موقع پر انھوں نےمسکراتے ہوئے ایک دلچسپ تقریر بھی کی تھی۔

نومبر کے مہینے میں ’ویمپائررومینس‘ سیریزکی آخری فلم کا دوسراحصہ ’دی ٹوالائٹ ساگا‘، ’بریکنگ ڈاؤن پارٹ 2‘ ریلز ہوئی جس نے انٹرنشنل باکس آفس پر 814 ملین پاؤنڈ کا بزنس کیا۔

اس کےباوجود، فلم کی رومانوی جوڑی کرسٹین(ازابیلا) اور رابرٹ( ایڈورڈ) دونوں ہی بدترین اداکار اور اداکارہ کے درجے میں نامزد ہوئے ہیں۔

اسی فلم کی دوسری جوڑی ٹیلر لوتھنر اورایشلے گرین کو بدترین معاون اداکار اور اداکارہ کے لیے چنا گیا ہے۔

اداکارہ کرسٹین اسٹیوارٹ کی دوسری نامزدگی فلم ’سنو وائٹ اینڈ ہنٹس مین‘ کے مرکزی کردار میں بھی ہوئی ہے۔ بری اداکارہ کی صف میں ان کے ساتھ کیتھرین ہیگل فلم 'ون فار دا منی' اورمیلا جوؤچ کو 'ریذیڈنٹ ایول ' سے منتخب کیا گیا ہے۔

سال 2012کے لیے بری فلموں کی نامزدگیوں میں ’ٹوالائٹ بریکنگ ڈاؤن 2‘، سائنس فکشن فلم ’بیٹل شپ‘ اور ’دیٹس مائی بوائے‘ وغیرہ کے نام شامل ہیں۔

بری معاون ادکارہ کے لیے ریحانہ کو فلم ’بیٹل شپ‘ اور جینفر لوپیز کو ’واٹ ٹو ایکسپیکٹ‘ فلم سے نامزد کیا گیا ہے۔

بدترین اداکاروں کی نامزدگیوں میں مزاحیہ ادکار ایڈی مرفی، ایڈم سینڈلر اور نکولس کیج اپنی دو فلموں ’گھوسٹ رائیڈر‘ اور ’سیکنگ جسٹس‘ کے لیےنامزد ہوئے ہیں۔

ایوارڈز کا حتمی فیصلہ گولڈن رس بیری فاوٴنڈیشن کے 650 ممبران کے ووٹوں کے ذریعے کیا جاتا ہے۔
XS
SM
MD
LG