رسائی کے لنکس

افغانستان میں محض امریکی افواج میں اضافہ مسئلے کا حل نہیں: تجزیہ کار


فائل فوٹو

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ افغانستان سے متعلق نئی حکمت عملی وضع کر رہی ہے، جس کے تحت افغانستان میں تعینات امریکی فوجیوں کی تعداد میں 3000 اہلکاروں کا اضافہ تجویز کیا گیا ہے۔

اگرچہ اس بارے میں ابھی کوئی اعلان سامنے نہیں آیا، تاہم اطلاعات کے مطابق مختلف سطحوں پر مشاورت کا سلسلہ جاری ہے۔

پاکستان میں تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ محض فوجیوں کی تعداد میں اضافے سے افغانستان میں امن کا حصول ممکن نہیں۔

پاکستان کے سابق سفارت کار ایاز وزیر افغانستان میں بھی خدمات سرانجام دے چکے ہیں، اُن کا کہنا ہے کہ افغان مسئلے کا حل بات چیت ہی سے ممکن ہے۔

’’میں نہیں سمجھتا کہ طاقت کی بنیاد پر آپ مسائل حل کر سکتے ہیں۔۔۔ طاقت کے ذریعے آپ اپنی پوزیشن تھوڑی سے مضبوط ضرور کر سکتے ہیں۔۔۔۔ لیکن امریکہ کی پوزیشن کمزور نہیں ہے وہ تو تنہا سپر پاور ہے۔‘‘

اُن کا کہنا تھا کہ امریکہ اس خطے میں امن لانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

امریکی تجزیہ کار اور مڈل ایسٹ انسٹیٹیوٹ میں پاکستان سٹڈیز کے ڈائریکٹر ڈاکٹر مارون وائیں بوم نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ طالبان کی بڑھتی ہوئی کارروائیوں کو روکنے کے لیے امریکی فوجیوں کی تعداد میں اضافہ تجویز کیا گیا ہے۔

پروفیسر مارون نے کہا کہ ’’یہ مسئلے کا حل نہیں ہے اور ایسا بھی نہیں ہو گا کہ طالبان کے خلاف کی جانے والی کارروائیوں کا پانسہ بدل جائے گا‘‘۔

لیکن اُن کے بقول یہ اس حکمت عملی کا حصہ ہو سکتا ہے جس کے ذریعے مزید وقت حاصل کیا جا سکے تاکہ افغان حکومت خود کو صورت حال سے نمٹنے کے لیے تیار کر سکے۔

بین الاقوامی اُمور کے ماہر اور یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر رفعت حسین کہتے ہیں کہ امریکی فوجیوں کی تعداد میں اضافے کا مقصد تو یہ ہی ہے کہ طالبان کی پیش قدمی کو سست کیا جائے۔

’’میرے خیال میں یہ حکمت عملی امریکہ نے پہلے بھی اپنائی ہے جب ان کے فوجیوں کی تعداد وہاں (افغانستان) میں ایک لاکھ کے قریب تھی اس کا نتیجہ آپ کے سامنے ہے اس میں انہیں کوئی کامیابی نہیں ہوئی۔۔۔ اس وقت امریکہ کیوں کر رہا ہے اور ٹرمپ انتظامیہ کیوں ایسا کر رہی ہے ۔۔۔ ان کا خیال یہ ہے کہ حالیہ مہینوں کے اندر طالبان نے عسکری محاذ پربہت زیادہ پیش رفت کی ہے۔ تو ان کی اس پیش قدمی کو روکنے اور اس کو سست کرنے کے لیے ان کا خیال یہ ہے کہ پانچ ہزار ابھی نیٹو کے طرف سے کچھ فوجیں بھیجنے کا عندیہ دیا جا رہا ہے اور ابھی برسلز میں ان کا اجلاس ہونے والا ہے اس کے اندر یہ فیصلہ کریں گے۔‘‘

ڈاکٹر رفعت کا کہنا ہے کہ مسلح کارروائیوں سے افغان طالبان بھی اپنے مقاصد حاصل نہیں کر سکتے۔

’’اگر طالبان یہ سوچتے ہیں کہ وہ مسلح کارروائیوں سے افغانستان پر قبضہ کر لیں گے تو اُس سے بھی کوئی نتیجہ نہیں نکلے گا اور اگر افغانستان کی اتحادی حکومت سمجھتی ہے کہ وہ بین الاقوامی برادری کی مدد سے اپنے مقاصد حاصل کر لی گی تو اُس کا بھی کوئی امکان نہیں ہے۔۔۔ میرا خیال ہے کہ اس مسئلے کا حل مذاکرات میں ہے۔‘‘

اس وقت افغانستان میں تعینات امریکی فوجیوں کی تعداد 8400 ہے جب کہ نیٹو افواج کو شامل کر کے افغانستان میں موجود بین الاقوامی فورسز کی تعداد لگ بھگ 13000 ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG