رسائی کے لنکس

خطہ عرب کی حالیہ تبدیلیوں کے دہشت گردی کے خلاف جنگ پر اثرات

  • ندیم یعقوب

خطہ عرب کی حالیہ تبدیلیوں کے دہشت گردی کے خلاف جنگ پر اثرات

خطہ عرب کی حالیہ تبدیلیوں کے دہشت گردی کے خلاف جنگ پر اثرات

حالیہ مہینوں میں مشرق وسطیٰ اور مشرقی افریقہ میں رونما ہونے والی تبدیلیوں نے جہاں ایک طرف خطے کے ملکوں میں جمہوری اقدار کے فروغ سے متعلق بہت سی توقعات کو جنم دیا ہے وہیں اس سوچ کو بھی تقویت ملی ہے کہ یہ تبدیلی پاکستان اور افغانستان میں جاری دہشت گردی کے خلاف جنگ پر بھی اپنے مثبت اثرات مرتب کرسکتی ہے۔ امریکہ میں سیاسی ماہرین اب اس پہلو پر غور کررہے ہیں کہ آیا مصر اور تیونس کے عوامی انقلاب اسلامی دنیا میں پائی جانے والی مذہبی انتہا پسندی کو زائل کر سکتے ہیں۔

القاعدہ کے اہم راہنما ایمن الظواہری کا تعلق ٕمصر سے ہےاور انہیں دنیا میں انتہا پسند اسلامی نظریات اور ٕ دہشت گرد سوچ کے فروغ میں اہم کردار تصور کیا جاتا ہے ۔تاہم جنوری میں جب مصر ی عوام نے ملک میں تبدیلی کے لئے آواز اٹھائی تو نہ تو ان کا نام کہیں سنا گیا اور نہ ہی ان کے نظریات انقلاب کے راہنما اصول وضع کرتے نظر آئے۔

پاکستان مذہبی انتہا پسندی کی وجہ سے کئی مسائل کا شکار ہے اور دہشت گردی کے خلاف جنگ بھی کسی منتقی انجام کو پہنچتی نظر نہیں آتی ۔ امریکہ میں پاکستان کی سابق سفیر وینڈی چیمبرلین کا خیال ہے کہ عرب دنیا میں تبدیلیوں نے دہشت گرد نظریات کی کمر توڑ دی ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ میرے خیال میں دہشت گردی کے خلاف جنگ ٕمصر میں آنے والی تبدیلیوں کے ساتھ ختم ہو گئی ہے ۔ خطے کے لوگوں نے جمہوری اقدار اور آزادی کا انتخاب کیا ہے۔ لوگوں نے خود اس کا چناؤ کیا ہے اور یہ امریکہ کی طرف سے ان پر مسلط نہیں کیا گیا۔ میرے خیال میں مشرق وسطیٰ میں القاعدہ کی کہانی اور اس کی سوچ کو شکست ہوئی ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ ختم ہوگئی ہے۔ مگر پاکستان میں خطرات اب بھی موجود ہیں جن پر ہمیں نظر رکھنی ہوگی۔

ٕتیونس اور ٕمصر میں جمہوریت پسند اورمعاشی انصاف کے حامیوں کی فتح خطے کے باقی ممالک میں چنگاری ثابت ہوئی ہے۔ تاہم ابھی تک کہیں پر بھی مذہبی انتہا پسند گروہ بظاہر کسی تحریک کی سرپرستی کرتے نظر نہیں آرہے ۔مگر امریکہ میں ماہرین کو یہ فکر بھی لاحق ہے کہ کہیں امریکہ کی حامی حکومتوں کی جگہ وہاں مذہبی جماعتیں اقتدار میں نہ آجائیں ۔ واشنگٹن میں ایک تھنک ٹینک انسٹی ٹیوٹ فار دی اسٹڈی آف وارکے جیفری ڈریسلرکا خیال ہے کہ عرب دنیا میں سیاسی تبدیلیاں پاکستان اور افغانستان میں موجود انتہاپسند عناصر کے لئے تقویت کا باعث بن سکتی ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ میراخیال ہے کہ عرب دنیا میں آنے والی تبدیلیاں پاکستان میں موجود مذہبی عسکریت اور انتہا پسند نظریات کا زور کم کرنے کی بجائے شاید کچھ عناصر کو مذید تقویت بخشیں گے۔ ہم جانتے ہیں پاکستان کی داخلی صورتحال بہت نازک ہے ۔ اس لئے حکومت دہشت گردی کے خلاف جو اقدام بھی کرے گی وہ بہت غور وخوص کے بعد ہوگا تاکہ ملک میں عدم استحکام میں اضافہ نہ ہو۔عرب دنیا میں تبدیلیوں کے دباؤ کی وجہ سے حکومت مذید کسی اقدام سے ہچکچاتی نظر آ رہی ہے۔

عرب دنیا میں سیاسی تبدیلیاں باقی مسلمان ممالک اور خاص طور پر پاکستان میں کس حد تک انتہا پسند نظریات پر اثر انداز ہو نگی اس بارے میں ابھی کچھ کہنا شاید قبل از وقت ہے مگر سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ بات طے ہے کہ آنے والے مہینوں اور برسوں میں ان تبدیلیوں کے مسلمان معاشروں پراثرات زیادہ واضح ہو کر سامنے آئیں گے۔

XS
SM
MD
LG