رسائی کے لنکس

بھارت: تمل ناڈو میں طوفانی بارشیں، چنئی زیرِ آب


فائل

فائل

بھارت کے محکمۂ موسمیات نے پیش گوئی کی ہے طوفانی بارش مزید تین روز تک جاری رہ سکتی ہے جس سے ریاست کی صورتِ حال مزید خراب ہونے کا اندیشہ ہے۔

بھارت کی جنوبی ریاست تمل ناڈو میں گزشتہ دو روز سے جاری طوفانی بارش کے نتیجے میں دارالحکومت چنئی سمیت کئی علاقے زیرِ آب آگئے ہیں۔

بھارت کے محکمۂ موسمیات نے پیش گوئی کی ہے طوفانی بارش مزید تین روز تک جاری رہ سکتی ہے جس سے ریاست کی صورتِ حال مزید خراب ہونے کا اندیشہ ہے۔

محکمۂ موسمیات کےمطابق چنئی میں بارش کا 100 سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا ہے۔ شہر کے بیشتر علاقے پانی میں ڈوبے ہوئے ہیں جب کہ ریلوے ٹریک اور ایئر پورٹ زیرِ آب آنے کے باعث پروازوں اور ٹرینوں کی آمد و رفت بھی معطل ہوگئی ہے۔

گزشتہ دو روز سے جاری طوفانی بارش کے دوران شہر میں اب تک کسی شخص کے ہلاک ہونے کی کوئی اطلاع نہیں ہے لیکن ریاست میں 12 نومبر سے شروع ہونے والے مون سون بارشوں کے سلسلے کےنتیجے میں اب تک 150 سے زائد افراد کی جان جاچکی ہے۔

ریاست کی وزارتِ داخلہ کے ایک اہلکار نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ صرف چنئی شہر میں بارش سے متعلق حادثات کے نتیجے میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 200 سے زائد افراد شدید زخمی ہوئے ہیں۔

چنئی بھارت کا چوتھا گنجان ترین شہر اور انفارمیشن ٹیکنالوجی اور آٹو مینو فیکچرنگ کا مرکز ہے جہاں فورڈ موٹر، ڈائملر، ہنڈائی اور نسان جیسی بین الاقوامی کمپنیوں کے کارخانے موجود ہیں۔

بارش کے باعث شہر کا صنعتی علاقہ اور کئی اہم رہائشی اور کاروباری مقامات زیرِ آب آچکے ہیں جس کے باعث ہزاروں افراد کو محفوظ مقامات کی جانب منتقل ہونا پڑا ہے۔

چنئی کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کے رن وے پر پانی کھڑا ہوجانے کے باعث منگل کی شب سے پروازوں کی آمد و رفت معطل ہے جس کے باعث سیکڑوں مسافر ہوائی اڈے پر پھنسے ہوئے ہیں۔

حکام نے بدھ کو سات کروڑ سے زائد آبادی والی اس ریاست میں امدادی سرگرمیوں کا آغاز کردیا ہے لیکن تاحال ان کا دائرہ کار محدود ہے۔

امدادی اہلکاروں نے چار ہیلی کاپٹروں کےذریعے چنئی کے زیرِ آب علاقوں میں خوراک، پانی اور دوائیں گرائیں جب کہ فوج کے اہلکاروں نے کشتیوں کے ذریعے پانی میں پھنسے ہوئے افراد کو نکالنے کا کام بھی شروع کردیا ہے۔

بھارت کی مرکزی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ چنئی اور ریاست کے دیگر متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیوں کے لیے پانچ ہزار فوجی اہلکار آئندہ 24 گھنٹوں میں فعال ہوجائیں گے۔

تمل ناڈو کی وزارتِ داخلہ کےایک اہلکار نے کہا ہے کہ صورتِ حال اتنی گھمبیر ہے کہ ریاستی انتظامیہ مکمل طور پر مفلوج ہوچکی ہے اور صوبائی حکومت کے بیشتر اہلکار اپنے گھروں سے نکلنے سے بھی قاصر ہیں۔

تمل ناڈو بھارت میں چاول اور گنے کی پیداوار کا بڑا مرکز ہے اور مقامی کسانوں کی ایک انجمن کے مطابق بارشوں اور سیلاب نے ریاست کے کم از کم چار زرعی اضلاع میں کھڑی فصلوں کو مکمل طور پر تباہ کردیا ہے۔

XS
SM
MD
LG