رسائی کے لنکس

ووٹوں کی دوبارہ گنتی وسکانسن میں ہو گی، مشی گن میں نہیں


وسکانسن کے الیکشن کمیشن کے مطابق یہاں ووٹوں کی دوبارہ گنتی کا عمل 88 فیصد مکمل ہو چکا ہے اور ایک ای میل میں کمیشن کے ترجمان کا کہنا تھا کہ یہ عمل پیر تک مکمل ہونے کی توقع ہے۔

وسکانسن کی عدالت نے ریاست میں امریکی صدارتی انتخاب کے ووٹوں کی دوبارہ گنتی کو روکنے کے لیے منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حامیوں کی درخواست کو مسترد کر دیا ہے جب کہ مشی گن کی سپریم کورٹ نے گرین پارٹی کی امیدوار جل اسٹیئن کی طرف سے دوبارہ گنتی کی استدعا رد کر دی ہے۔

اسٹیئن کی طرف سے تین ریاستوں میں آٹھ نومبر کے انتخابات کو چیلنج کیا گیا تھا۔ تیسری ریاست پنسلوینیا کے جج نے اس بابت فیصلہ پیر کو سنانے کا کہا ہے۔

تاہم اگر ووٹوں کی دوبارہ گنتی ہو بھی جاتی ہے تو اس کے ٹرمپ کی اپنی حریف ڈیموکریٹک ہلری کلنٹن پر فتح متاثر ہونے کے امکانات نہیں ہیں۔

وسکانسن میں "دی گریٹ امریکہ پولیٹیکل ایکشن کمیٹی" اور "اسٹاپ ہلری پے اے سی" گروپوں نے دوبارہ گنتی رکوانے کے لیے عدالت سے رجوع کیا تھا۔

اس ریاست کے الیکشن کمیشن کے مطابق یہاں ووٹوں کی دوبارہ گنتی کا عمل 88 فیصد مکمل ہو چکا ہے اور ایک ای میل میں کمیشن کے ترجمان کا کہنا تھا کہ یہ عمل پیر تک مکمل ہونے کی توقع ہے۔

جل اسٹیئن (فائل فوٹو)

جل اسٹیئن (فائل فوٹو)

عدالتی دستاویز کے مطابق ڈسٹرک جج جیمز پیٹرسن کا کہنا تھا کہ "دوبارہ گنتی کا عمل ایک ایسا اہم جز ہے جو انتخابات کی ساکھ کو یقینی بناتا ہے۔"

جمعہ کو ہی مشی گن کی سپریم کورٹ نے دوبارہ گنتی کے لیے اسٹیئن کی درخواست کو کثرت رائے سے مسترد کر دیا۔ اس درخواست کے خلاف تین ججز نے فیصلہ دیا جب کہ دو جج اس کے حق میں تھے۔

XS
SM
MD
LG