رسائی کے لنکس

تحقیق دانوں کے مطابق، جن خواتین کی خوراک میں سرخ گوشت کا زیادہ استعمال تھا ان میں چھاتی کے سرطان میں مبتلا ہونے کی شرح 22 فی صد زیادہ تھی

ایک نئی تحقیق کے مطابق، بڑھتی عمر میں سرخ گوشت (گائے بکری کے گوشت) کا زیادہ استعمال خواتین میں چھاتی کے سرطان کے امکانات بڑھانے کا سبب بنتا ہے۔

ہارورڈ یونیورسٹی کے تحقیق دانوں نے 26 برس سے لے کر 46 برس کی 88 ہزار خواتین پر ایک تحقیق کی اور 1991ء کے بعد سے ان کی روز مرہ کھانے پینے کی عادات کا جائزہ لیا۔

یہ تحقیق ’نرسز ہیلتھ‘ کے لیے کی گئی تھی، جو 1991ء سے خواتین نرسوں کی صحت سے متعلق تحقیق کے لیے کارگر ثابت ہو رہا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ خواتین کے لیے گائے اور بکرے کا گوشت اور ڈبوں میں بند فریز شدہ سرخ گوشت کھانا نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔

نرسوں کو دئیے گئے سوالنامے میں ان سے پوچھا گیا کہ روزمرہ خوراک میں کتنا سرخ گوشت کھاتی ہیں؟

جن نرسوں نے اس تحقیق میں حصہ لیا ان کی عمر، وزن، قد اور خاندانی ہسٹری کی بنیادی پر گذشتہ 20 برسوں میں 2,380 خواتین میں چھاتی کے سرطان کی تشخیص کی گئی۔

تحقیق دانوں کا کہنا تھا کہ چھاتی کے سرطان کی شرح خواتین کا روزمرہ خوراک کے حساب سے تعین کیا گیا۔

تحقیق دانوں کے مطابق جن خواتین کی خوراک میں بڑے گوشت کا زیادہ استعمال تھا ان میں چھاتی کے سرطان میں مبتلا ہونے کی شرح 22 فی صد زیادہ تھی۔

تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا کہ جن خواتین نے اپنی خوراک میں سے بکرے یا گائے کے گوشت کی بجائے مرغی کے گوشت کو استعمال کیا ان میں چھاتی کے سرطان میں مبتلا ہونے کی شرح میں 17 فی صد کمی نوٹ کی گئی۔

اس تحقیق میں یہ بات بھی واضح کی گئی کہ ممکنہ طور پر چھاتی کے سرطان کی ایک وجہ خواتین کا اوائل عمری میں سرخ گوشت کا زیادہ استعمال ہے کیونکہ اس عمر میں ابھی انسانی اعضاء مکمل طور پر ابھی نہیں بنے ہوتے۔

مگر تحقیق دانوں کا یہ بھی کہنا تھا کہ اوائل عمری میں گوشت کھانے اور چھاتی کے سرطان کے درمیان ربط کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔

امریکہ میں ’دی امریکن کینسر سوسائٹی‘ کہتی ہے کہ کینسر سے بچاؤ کے لیے ضروری ہے کہ انسان اپنی روز مرہ خوراک میں سبزیوں کا زیادہ استعمال کرے۔

XS
SM
MD
LG