رسائی کے لنکس

یورپ میں پناہ گزینوں کا بحران پر تشدد شکل اختیار کر سکتا ہے: اقوام متحدہ


پناہ گزین یونان کے دارالحکومت ایتھنز میں وکٹوریہ چوک میں ایک درخت کے نیچے آرام کر رہے ہیں۔

پناہ گزین یونان کے دارالحکومت ایتھنز میں وکٹوریہ چوک میں ایک درخت کے نیچے آرام کر رہے ہیں۔

مقدونیہ کی سرحد کے قریب ایک پر امن مظاہرہ اس وقت پرتشدد شکل اختیار کر گیا جب پولیس نے پناہ گزینوں اور تارکین وطن کو خار دار باڑ سے دور رکھنے کے لیے آنسو گیس استعمال کی۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین نے خبردار کیا ہے کہ یورپ ایک خود ساختہ انسانی بحران کا شکار ہے جو "پھٹنے" کے قریب ہے اور اگر یہ قابو سے باہر نکل گیا تو اس سے وسیع پیمانے پر تشدد پھیل سکتا ہے۔

ادارے کی رپورٹ میں کہا گیا کہ یونان میں ان مہاجرین اور تارکین وطن کی تعداد 24 ہزار کے لگ بھگ پہنچ چکی ہے جنہیں سرچھپانے کی جگہ چاہیئے۔ ان میں ساڑھے آٹھ ہزار ایسے افراد بھی شامل ہیں جو مقدونیہ کی سرحد کے قریب محصور ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ گنجائش سے زیادہ پناہ گزینوں کی آمد سے خوارک، خیموں، پانی اور صحت و صفائی کی سہولتوں کی قلت پیدا ہو رہی ہے۔

ادارہ برائے مہاجرین کے یورپ میں رابطہ کار ونسنٹ کوشیٹیل نے کہا کہ بلقان ریاستوں میں سرحدی چوکیوں پر رش سے پناہ گزینوں اور تارکین وطن میں مایوسی بڑھ رہی ہے۔

پیر کو مقدونیہ کی سرحد کے قریب ایک پر امن مظاہرہ اس وقت پرتشدد شکل اختیار کر گیا جب پولیس نے پناہ گزینوں اور تارکین وطن کو خار دار باڑ سے دور رکھنے کے لیے آنسو گیس استعمال کی۔

اس سال لگ بھگ ایک لاکھ 32 ہزار افراد بحیرہ روم عبور کر کے یورپ پہنچنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ ان میں سے لگ بھگ نصف تعداد بچوں اور عورتوں کی ہے اور تقریباً سبھی یونان پہنچے۔ یہ تعداد گزشتہ سال پہلے چھ ماہ کے دوران یورپ پہنچنے والے افراد سے بھی زیادہ ہے۔

ادارہ برائے مہاجرین کے ترجمان ایڈریئین ایڈورڈ کا کہنا ہے کہ یورپی یونین کو گزشتہ سال منظور کیے گئے اس منصوبے پر عملدرآمد کرنا چاہیئے جس کے تحت آباد کاری کے لیے تمام 28 رکن ممالک میں پناہ گزینوں کی منصفانہ تقسیم کی جائے گی۔

’’اس سے سب کو تشویش ہونی چاہیئے کہ یونان سے 66 ہزار چار سو پناہ گزینوں کو دوسری جگہ منتقل کرنے کے وعدوں کے باوجود یورپی ملکوں نے صرف 1,539 افراد کے لیے جگہیں مختص کی ہیں اور صرف 325 افراد کو دوسری جگہ منتقل کیا گیا ہے۔‘‘

ادارہ برائے مہاجرین کا کہنا ہے کہ یونان کو آنے والے پناہ گزینوں کو رکھنے اور انہیں مدد فراہم کرنے کے لیے اپنی استعداد میں فوری اضافہ کرنے کی ضرورت ہے اور مزید وسائل اور یورپی ممالک کے درمیان بہتر رابطہ کاری اس سلسلے میں نہایت اہم ہوں گے۔

XS
SM
MD
LG