رسائی کے لنکس

پناہ گزینوں کا عالمی دن: پاکستان کو 64سال کا تجربہ حاصل، دنیا میں سرفہرست


پناہ گزینوں کا عالمی دن: پاکستان کو 64سال کا تجربہ حاصل، دنیا میں سرفہرست

پناہ گزینوں کا عالمی دن: پاکستان کو 64سال کا تجربہ حاصل، دنیا میں سرفہرست

دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی پیر 20 جون کو عالمی یوم پناہ گزین منایا گیا۔ اسے حرف عام میں مہاجرین کا عالمی دن بھی کہا جاتا ہے۔بنیادی طور پر وہ لوگ مہاجرین یا پناہ گزین کہلاتے ہیں جو کسی جنگ ،نسلی تعصب،مذہبی کشیدگی ،سیاسی تناوٴیا امتیازی سلوک کی وجہ سے ایک جگہ سے دوسری جگہ نقل مکانی کرتے ہیں

دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی پیر 20 جون کو عالمی یوم پناہ گزین منایا گیا۔ اسے حرف عام میں مہاجرین کا عالمی دن بھی کہا جاتا ہے۔بنیادی طور پر وہ لوگ مہاجرین یا پناہ گزین کہلاتے ہیں جو کسی جنگ ،نسلی تعصب،مذہبی کشیدگی ،سیاسی تناوٴیا امتیازی سلوک کی وجہ سے ایک جگہ سے دوسری جگہ نقل مکانی کرتے ہیں۔ اس دن کے منانے کا مقصد مہاجرین کے ساتھ اظہار یکجہتی اوران کو درپیش مسائل سے حوالے سے آگاہی پیدا کرنا ہے۔

پاکستان 1947ء میں ہزاروں ہندوستانی مسلمان مہاجرین کی پاکستان منتقلی کے سبب دنیا کی ایک بڑی پناہ گاہ بنا۔ اس کے بعد 1979ء میں افغانستان پر سوویت یونین کے حملے اور بعد ازاں چھڑنے والی سردجنگ کے موقع پر لاکھوں افغان مہاجرین کی پناہ گاہ بنا۔

ملکی حدود کی بات کریں تو یہاں بھی پاکستان کو ہی دیگر اقوام کے مقابلے میں پناہ گزین کے حوالے سے کئی تجربات ہوئے۔ حالیہ برسوں میں جنوبی وزیرستان اور سوات میں پاک افواج کے دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کے سبب لاکھوں افراد نے ملک کے مختلف شہروں کی طرف ہجرت کی ۔جولائی 2010ء میں اندرون ملک تباہ کن سیلاب کے سبب 2 کروڑ 10لاکھ افراد متاثر ہوئے جبکہ لاکھوں افراد کو اپنے گھر بار چھوڑ کر محفوظ مقامات پر پناہ گزینی اختیار کرنا پڑی۔

اس لئے پاکستان کو مہاجرین کی میزبانی اور پناہ گزینوں کو سر چھپانے کا آسرا فراہم کرنے کا جس قدر زیادہ تجربہ رہا دنیا کی کسی اور قوم کو شاید اس کا اتنا تجربہ نہ ہوا ہو۔اگر یہ کہا جائے کہ 1947 سے اب تک کے 64سال پاکستان نے اسی تجربے میں گزارے ہیں،تو ہرگز بے جا نہ ہوگا۔

ملک میں سب سے بڑی تعداد افغان پناہ گزینوں کی ہے جن میں 20 لاکھ افراد کو رجسٹرڈ کر لیا گیا جبکہ 10 لاکھ افراد کی رجسٹریشنہونا باقی ہے۔ افغان مہاجرین کی نصف تعداد یعنی پندرہ لاکھ صرف بلوچستان میں آباد ہیں ۔

اقوام متحدہ کے ذیلی ادارہ برائے مہاجرین ( یو این ایچ سی آر) نے دنیا میں حالت مجبوری میں نقل مکانی کرے والے افراد کے لئے بین الاقوامی امداد میں عدم توازن پر ایک خصوصی رپورٹ جاری کی ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایک طرف دنیا میں اسی فیصد مہاجرین کا بوجھ ترقی پذیر اور غریب ممالک برداشت کر رہے ہیں تو دوسری جانب کئی ترقی یافتہ ممالک مہاجرین کے بارے میں ذمہ داریاں پوری کرنے سے پہلو تہی کر رہے ہیں اور وہاں مہاجرین کے مخالف جذبات کو فروغ مل رہا ہے ۔

یو این ایچ سی آر کی گلوبل ٹرینڈ زرپورٹ دو ہزاردس کے مطابق معیشت اور خراب زمینی حالات کے حامل متعدد غریب ترین ممالک میں مہاجرین کی تعداد سب سے زیادہ ہے ۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں 1.9 ملین مہاجرین موجود ہیں جو دنیا کے کسی بھی دیگر خطے کے مقابلے میں سب سے کثیر تعداد ہے ۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان کی معیشت پر مہاجرین کی بے تحاشہ بوجھ کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ پاکستان کے جی ڈی پی کے فی ڈالر کے مقابلے میں یہاں 710 مہاجرین مقیم ہیں ۔ رپورٹ میں یہ حیرت ناک امر سامنے آیا ہے کہ پاکستان کے مقابلے میں معاشی لحاظ سے انتہائی مستحکم ملک جرمنی کے جی ڈی پی کے فی ڈالر کے مقابلے میں وہاں صرف 17 مہاجرین موجود ہیں ۔ واضح رہے کہ ترقی یافتہ ممالک میں جرمنی وہ ملک ہے جہاں سب سے زیادہ یعنی چھ لاکھ مہاجرین مقیم ہیں ۔

مذکورہ پورٹ سے عیاں ہے کہ ساٹھ سال قبل جب اقوام متحدہ کا دارہ برائے مہاجرین قائم کیا گیا تھا تو اس کے مقابلے میں آج دنیا میں مہاجرین کے تحفظ اور دیکھ بھال کا ماحول یکسر تبدیل ہو گیاہے ۔ رپورٹ کے مطابق اس وقت ادارے کو جنگ عظیم دوم کے نتیجے میں صرف یورپ کے 2.1 ملین مہاجرین کی نگہبانی کرنی تھی جبکہ آج یو این ایچ سی آر کی ذمہ داریاں 120 سے زائد ایسے ممالک تک پھیل گئی ہیں جہاں لوگ نقل مکانی پر مجبور ہیں یا پھر اپنے ہی ملک کے اندر ہی بے گھر ہو گئے ہیں ۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس وقت دنیا بھر میں 43.7 ملین لوگ ہجرت پر مجبور ہیں ،مزید 27.5 ملین افراد اندرونی طور پر یعنی اپنے ہی ملکوں کے اندر بے گھر ہوئے ہیں جبکہ آٹھ لاکھ پچاس ہزار افراد دیگر ملکوں میں پناہ گزین ہیں جن میں صرف ساؤتھ افریقہ میں بیس فیصد مقیم افرادہیں ۔

اس حوالے سے امر تنہائی تشویشناک ہے کہ تارکین وطن میں سے پندرہ ہزار پانش سو درخواست گزار پناہ گزین ایسے ہیں جو بچے یا بے سہارا افراد ہیں ایسے درخواست گزاروں کا زیادہ تعلق افغانستان اور صومالیہ سے ہے ۔ واضح رہے کہ مندرجہ بالا تعداد میں رواں سال کے اندر لیبیا اور ائیور کوسٹ کے بے گھر لوگوں کو شامل نہیں کیا گیا ہے ، اگر اس تعداد کو شامل کیا جائے تو مہاجرین کی تعداد میں مزید اضافہ ہو گا۔

XS
SM
MD
LG