رسائی کے لنکس

یونان: کشتی ڈوبنے کے واقعات، قبروں کی جگہ کم پڑ گئی


لیسبوس شہر کے ساحلی محافظ اور گورکن کہتے ہیں کہ، ’’کشتی ڈوبنے کے واقعات جتنے دل دہلانے والے ہیں، اتنے ہی پریشان کُن تدفین کے معاملات ہیں: باپ ایک جگہ دفن ہے تو ماں دوسری جگہ، جب کہ بچے کسی اور مقام پر؛ زیتون کے درختوں کو کاٹ کر قبروں کی جگہ پیدا کی گئی ہے‘‘

یونان کےجزیرہٴ لیسبوس میں قبرستان کےلیے جگہ کم پڑتی جا رہی ہے۔ لیسبوس کے امدادی کارکن سمندر سے نکالی گئی لاشوں کے کفن دفن کو یقینی بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔

گذشتہ سال 10 لاکھ سے زائد مہاجرین کو یورپ میں پناہ ملی، جن میں سے زیادہ تر پہلے لیسبوس پہنچے تھے۔ تاہم، وہاں پہنچنے کے لیے سمندر کا سفر جان لیوا ثابت ہوتا ہے، اور اِن میں سے 4000 سے زائد افراد ڈوب چکے ہیں۔

اور اُن کی لاشیں دفنائی نہیں جا سکیں۔

مصر سے تعلق رکھنے والے مصطفیٰ محمود طالب علم ہیںٕ جو اس وقت یونان میں رہتے ہیں۔ اُنھوں نے تدفین کے فرائض انجام دینے کے لیے رضاکارانہ کام کی پیش کش کی ہے۔ بقول اُن کے، ’’اِن میں مرد و زن کی لاشیں ہیں، لیکن ہلاک ہونے والوں میں زیادہ شمار بچوں کا ہے‘‘۔

اُن کے الفاظ میں، ’’کسی کو کوئی پرواہ نہیں۔ اِس میں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر کام کرنے والی تنظیمیں اور اسلامی گروہ شامل ہیں‘‘۔

حالیہ مہینوں کے دوران مایوسی چھا چکی ہے۔۔ ایسے میں جب ساحل پر مزید لاشیں پہنچی ہیں۔۔ کبھی ایک، کبھی درجنوں کے حساب سے۔ ترکی سے سفر کرنے والی ربڑ کی یہ کشتیاں بحیرہ روم کی ٹکراتی ہوئی بے رحم لہروں کا مقابلہ نہیں کر سکتیں۔

تھیوڈوروس نوسیاس، متیلین جنرل اسپتال میں دل کے امراض سے وابستہ ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’کسی وقت، رفریجرٹر اور مردہ خانے میں 85 تک لاشیں تھیں‘‘۔ کشتی ڈوبنے کے واقعات کے پیش نظر، لاشوں کو مناسب طریقے سے رکھنے کے لیے مردہ خانوں کا بندوبست کیا گیا ہے۔

نوسیاس نے مزید کہا کہ ’’28 اکتوبر، 2015ء کے روز واقع ہونے والے بڑے حادثے کے نتیجے میں بچوں سمیت پورے خاندان ڈوب گئے تھے۔ اِس لیے، یوں بھی ہوتا ہے کہ کسی کی شناخت تک نہیں ہوپاتی‘‘۔

امواتِ ناگہانی کے واقعات سے نبردآزما ہونے والا وہ سب کچھ کرتا ہے جیسا کہ لاشوں کا ’ڈی این اے‘ کرانا، تاکہ کبھی رشتہ دار نمودار ہوں تو اُن کی تشفی ممکن ہو سکے۔

زیتون کےباغ میں تدفین


لیسبوس میں مہاجرین کے قافلوں کا راج ہے۔۔جِن میں زندہ اور ہلاک شدہ، دونوں شامل ہیں۔ لیکن، جب ہجرت کا سلسلہ زوروں پر تھا، جزیرے کے قبرستان تقریباً بھر چکے تھے، جن میں سے زیادہ تر مسیحی ہیں۔ سفر کے دوران ڈوبنے والے مسلمان مہاجرین کی تدفین کا معاملہ زیادہ پیچیدہ ثابت ہوا ہے۔

زیتون کے درختوں کو کاٹ کر قبروں کی جگہ پیدا کی گئی ہے۔ یہاں قبروں کی قطار لگ گئی ہے، جب کہ کچھ لوح ِمزار سنگ مرمر کی ہیں۔ رضاکار، محمود قاہرہ کی جامعہ الازہر کے گریجوئیٹ ہیں، وہ مذہبی مطالعہ کر رہے ہیں، تاکہ دینی روایتوں کے مطابق لاشوں کی حرمت کے تقاضے پورے کیے جاسکیں۔ تاہم، حتی المقدور کوشش ہی کی جاسکتی ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ ’’کشتی ڈوبنے کے واقعات جتنے دل دہلانے والے ہیں، اتنے ہی پریشان کُن تدفین کے معاملات ہیں: باپ ایک جگہ دفن ہے تو ماں دوسری جگہ، جب کہ بچے کسی اور مقام پر‘‘۔

بے نام لوگ

زیادہ تر قبریں ایسی ہیں جن پر شناخت کے کتبے لگے ہوئے نہیں ہیں۔ یورپ جانے پر مجبور لوگ اتنی مایوسی کا شکار ہیں کہ وہ بڑے خطرات جھیلنے کے لیے تیار ہیں۔ اور جب یہ حشر دیکھتے ہیں تو کہتے ہیں کہ اُنھوں نے کبھی اس کا سوچا تک نہیں تھا۔

غوما ،بذریعے کشتی، ایک روز قبل یہاں پہنچے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’میں یورپ جانے کے خواہشمند تمام شامی مہاجرین کو مشورہ دیتا ہوں کہ وہ اس سے احتراز کریں‘‘۔

اُنھوں نے مزید کہا کہ ’’اِن دِنوں سمندر چڑھا ہوا ہے اور موسم سرد ہے۔ کل اسمگلروں نے ہر کشتی میں 40 افراد کو سوار کرنے کا کہہ کر 70 کو بٹھایا‘‘۔ اُنھوں نے بتایا کہ ’’سفر کے دوران، ایک خاتون ہلاک ہوگئیں، جب کہ یونانی ساحلی محافذ باقیوں کی مدد کے لیے آگے بڑھے۔

غوما نے بتایا کہ اُنھوں نے شام سے یورپ جانے کا فیصلہ اس لیے کیا کہ وہ اپنی اپاہج بیٹی کا علاج اور اپنے بیٹوں کی تعلیم دلانا چاہتے تھے۔ تاہم، اُن کی دو بیویوں اور چھ بچوں کے لیے یہ سفر سوچ سے زیادہ مشکل تھا۔
بقول اُن کے، ’’سمندری سفر کے دوران، جو کچھ میں نے جھیلا وہ ناقابل بیان ہے۔ بچوں کا سوچ کر دل دہل جاتا ہے۔ نوجوان تو اپنے آپ کو سنبھال ہی لیں گے۔ لیکن چھوٹے بچے، دو یار پانچ برس کے، اگر کچھ ہوگیا تو اُن کی حفاظت کرنا محال ہے‘‘۔

ایسے بچے، ظالم سمندری لہروں کے حوالے ہو کر ساحل پر لاش بن کر پہنچتے ہیں، اس کا بھی پتا نہیں کہ قبر بھی نصیب ہوگی! زیتون کے باغوں میں قبروں پر لوح مزار پر ’نامعلوم‘ کا کتبہ عام ہے۔

XS
SM
MD
LG