رسائی کے لنکس

اہل کاروں کے مطابق، جو بچہ انسداد پولیو کے قطرے نہیں پئےگا وہ چلتا پھرتا پولیو کیس اور دوسرے بچوں کیلئے خطرہ ہے، جو عالمی ادارہٴصحت کی جانب سے لازمی قرار دئے گئے ہیں

کراچی میں انسداد پولیو مہم کے دوران، بچے کو پولیو سے بچاوٴ کے قطرے پلانے سے انکار پر پولیس نے ایک شخص کو گرفتار کر لیا ہے۔

بدھ کےروز کراچی کے مختلف قصبہ جات میں شیڈول کے مطابق انسداد پولیو مہم چلائی گئی۔ شہر کے لیاقت آباد یوسی ٹاون نمبر دو کے علاقے میں بدھ کو پولیو مہم کےدوران، ڈپٹی کمشنر سینٹرل سیف الرحمان پولیس ٹیم کے ہمراہ پولیو مہم کا جائزہ لینے پہنچے، تو ایک گھر پر جب پولیو ٹیم پہنچی تو گھر میں موجود شخص نے اپنے بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے سے انکار کردیا۔ اور اسے غلط قرار دیا۔ شہری کے سخت رویے پر ڈپٹی کمشنر سینٹرل کی جانب سے اس شخص کو گرفتار کرنے کی ہدایت کی۔

ڈپٹی کمشنر سینٹرل سیف الرحمان نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں بتایا کہ ’پولیو مہم کے دوران رضاکار معمول کے مطابق پولیو کے قطرے پلانے گھر گھر جا رہے تھے کہ ایک گھر سے ایک شخص نے اپنے بچے کو پولیو کے قطرے پلانے سے انکار کیا۔ کافی سمجھانے کے باوجود وہ شخص پولیو کے قطروں کو غلط کہتا رہا جسکے بعد انھوں نے اسے پولیس سے اس شخص کو گرفتار کروایا'۔

وہ کہتے ہیں کہ جو بچہ انسداد پولیو کے قطرے نہیں پئےگا وہ چلتا پھرتا پولیو کیس اور دوسرے بچوں کیلئے خطرہ ہے، جبکہ عالمی ادارہ صحت کی جانب سے لازمی قرار دئے گئے ہیں۔ یہ ایک ایسا مرض ہے، جسکا کوئی علاج نہیں۔ پولیو کے قطرے اس سے بچاوٴ کا واحد حل ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’پولیو سے پورا پاکستان ملک بھر میں بدنامی کا باعث بن رہا ہے۔ آئندہ بھی شہر کراچی میں اگر والدین انکار کریں گے تو ان کے خلاف سخت کاروائی ہوگی‘۔

یوسی ٹاوٴن نمبر دو کےٹاون ہیلتھ آفیسر، ڈاکٹر قمر نے بتایا کہ، ’پولیو مہم کے دوران، کئی والدین پولیو کے قطرے پلانے سے انکار کرتے ہیں۔ مگر رضاکار ان کو پولیو بیماری کے بارے میں آگاہ کرکے انھیں قائل کرتے ہیں۔ اس بار اس شخص کا رویہ انتہائی سخت تھا، جس پر پولیس نے اسے گرفتار کیا۔

بتایا جاتا ہے کہ کراچی شہر کی یوسی ٹاوٴن نمبر 2 حساس یونین کونسل میں شمار ہوتی ہے، جہاں اس سے قبل، ایک پولیو کیس سامنے آچکا ہے.

XS
SM
MD
LG