رسائی کے لنکس

طالبان قیدیوں کو کسی دباؤ کے تحت رہا نہیں کیا گیا: پاکستانی ترجمان

  • شہناز نفيس

ترجمان پاکستانی دفتر خارجہ معظم احمد خان

ترجمان پاکستانی دفتر خارجہ معظم احمد خان

معظم خان نے کہا کہ افغان حکومت اور اعلیٰ امن کونسل کا خیال تھا کہ اگر ہم طالبان قیدیوں کو رہا کردیتے ہیں تو اِس سے افغانستان میں مفاہمت کے عمل میں بہت مدد ملے گی

پاکستان کا کہنا ہے کہ یہ تصور غلط ہے کہ اُس نے کسی دباؤ کے تحت بعض افغان طالبان قیدیوں کو جیل سے رہا کیا ہے۔

پاکستانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان، معظم احمد خان نے ’وائس آف امریکہ ‘ کی اردو سروس سے ایک انٹرویو میں واضح طور پر کہا کہ یہ رہائی افغان حکومت اور افغانستان کی اعلیٰ امن کونسل کی درخواست پر عمل میں آئی ہے۔

مسٹر معظم خان نے مزید کہا کہ افغان حکومت اور اعلیٰ امن کونسل کا خیال تھا کہ اگر ہم طالبان قیدیوں کو رہا کردیتے ہیں تو اس سے افغانستان میں مفاہمت کے عمل میں بہت مدد ملے گی۔

اُنھوں نے اِس بات کا اعادہ کیا کہ افغانستان میں مفاہمت اور امن کےلیے پاکستان جِس طرح بھی سہولتیں پیدا کر سکتا ہے اِس کے لیے وہ تیار ہے۔

اِس سوال کے جواب میں کہ بعض حلقے یہ کہتے ہیں کہ ملا عمر پاکستان میں ہیں، پاکستانی ترجمان نے کہا کہ یہ وہ الزامات ہیں جو قیاس آرائیوں پر مبنی ہیں۔

اُنھوں نے آگے چل کر کہا کہ اگر ملا عمر کے بارے میں کسی کو علم ہو تو پاکستان اس بات کا خیر مقدم کرے گا کہ وہ اِس کے بارے میں آگاہ کریں۔

ایک اور سوال کے جواب میں معظم خان نے کہا کہ ہم امید کرتے ہیں کہ پاکستانی طالبان پُرامن طریقے اپنائیں گے اور حکومت کے ساتھ بات چیت میں شریک ہوں۔

تاہم، اُنھوں نے اِس بات پر زور دیا کہ ہم کسی کو بھی حکومت کی رِٹ کو چیلنج کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔

تفصیل کے لیے آڈیو رپورٹ پر کلک کیجئیے:

XS
SM
MD
LG