رسائی کے لنکس

مذاہب پر امریکیوں کی معلومات محدود ہیں: سروے


فلوریڈا کے پادری ٹیری جونز (جنہوں نی قران کو نذر آتش کرنے کا اعلان کیا تھا) اور امام محمد مصری

فلوریڈا کے پادری ٹیری جونز (جنہوں نی قران کو نذر آتش کرنے کا اعلان کیا تھا) اور امام محمد مصری

امریکہ میں ہونے والے ایک نئے سروے سے ظاہر ہوا ہے کہ بہت سے امریکی اپنے اور دوسرے لوگوں کے مذاہب کے بارے میں بہت کم علم رکھتے ہیں۔

مذہب اور پبلک لائف سے متعلق تنظیم انڈیپنڈنٹ پیو نے کہا ہے کہ ان کے سروے میں 34000 امریکیوں سے مختلف مذاہب کے بارے میں سوالات پوچھے گئے تھے ، جب کہ ان میں سے تقریباً نصف کے جواب غلط نکلے۔

منگل کے روز جاری کیے گئے سروے کے نتائج سے ظاہر ہوا ہے کہ ایسے امریکیوں کی ، جو خدا پر یقین نہیں رکھتے یا جنہیں یہ یقین نہیں ہے کہ آیا خدا کا کوئی وجود ہے بھی یا نہیں، مذہب کے بارے میں معلومات سب سے زیادہ ہیں۔

خدا پر اعتقاد نہ رکھنے والوں نے 32 میں سے 21 سوالات کے درست جوابات دیے۔ جب کہ اس کے بعد یہودی اور مورمن تھے جن کے تقریباً 20 جوابات درست تھے۔

عیسائیت کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال میں عیسائی مورمن فرقے سے تعلق رکھنے والے افراد کا سکور سب سے زیادہ تھا۔ جب کہ یہودیوں، خدا پر اعتقاد نہ رکھنے والوں اور مادیت پرستوں نے دنیاکے دوسرے مذاہب مثلاً اسلام، بودھ مت اور ہندو ازم سے متعلق سوالات میں سب سے زیادہ پوائنٹ حاصل کیے۔

اس سروے میں مسلمانوں، ہندوؤں اور بودھ مت کے پیروکاروں کو بھی شریک کیا گیاتھا، لیکن ان کی تعداداتنی زیادہ نہیں تھی کہ ان کے جوابات کا الگ سے ریکارڈ مرتب کیا جائے۔

سروے میں دنیا کے مذاہب کے بارے میں پوچھے گئے سوالات سے معلوم ہوا کہ صرف 47 فی صد امریکیوں کو یہ علم تھا کہ دلائی لامہ بودھ مذہب کے پیروکار ہیں۔ 40 فی صد سے کم امریکیوں کو یہ معلوم تھا کہ وشنو اور شیوا کا تعلق ہندومذہب سے ہے اور صرف 27 صد امریکی یہ جانتے تھے کہ انڈونیشیا میں سب سے زیادہ مسلمان ہیں اور وہ دنیا میں مسلمان آبادی کاسب سے بڑا ملک ہے۔

سروے سے یہ بھی معلوم ہوا کہ 45 فی امریکی رومن کیتھولک یہ نہیں جانتے کہ عبادت کے دوران روٹی اور شراب کا متبرک کھانا صرف ایک علامت ہی نہیں ہے بلکہ حضرت عیسیٰ نے اسے اپنا جسم اور روح کہا تھا۔ 53 فی صد امریکی پروٹسٹنٹ یہ نہیں بتا سکے کہ مارٹن لوتھر کنگ ایک پروٹسٹنٹ اصلاح کار راہنما تھے۔ اور 43 فی صد امریکی یہودی موسیٰ بن میمون کے متعلق کچھ نہیں جانتے تھے جو کہ یہودی تاریخ کے ایک اہم ترین عالم تھے۔

پیو کے محقیقن کا کہنا ہے کہ اس سے قبل کے ایک سروے سے یہ ظاہر ہواتھا کہ امریکہ دنیا کے ان ترقی یافتہ ممالک میں شامل ہے جہاں زیادہ تر لوگ مذہبی ہیں۔

سروے میں پوچھے جانے والے سوالات کچھ اس طرح کے تھے کہ حضرت عیسیٰ کہاں پیدا ہوئے؟ رمضان کیا ہے؟ دلائی لامہ کا مذہب کیا ہے؟ وغیرہ۔

پیو نے تین ہفتوں پر محیط یہ سروے ٹیلی فون پر انگریزی اور ہسپانوی زبانوں میں کیا ۔

XS
SM
MD
LG