رسائی کے لنکس

نفرتیں اور فاصلے مٹانے میں مذہب کا کردار

  • آمنہ خان

پاکستانی مسلمانوں کے، فیس بک کے خلاف، حالیہ مظاہرے (فائل فوٹو)

پاکستانی مسلمانوں کے، فیس بک کے خلاف، حالیہ مظاہرے (فائل فوٹو)

پاکستان میں جہاں ان دنوں پاک بھارت وزرائے خارجہ مذاکرات جاری ہیں ، امن کے قیام اور دہشت گردی کے خاتمے کی خواہش کرنے والوں کی کوئی کمی نہیں، مگر پاکستان ہی نہیں افغانستان اور عراق بھی ان ملکوں میں شامل ہیں، جن کا ذکر اکثر عالمی میڈیا میں فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات کی بنا پر ہوتا ہے۔لیکن ان ملکوں میں ایسے باہمت افراد بھی بڑی تعداد میں موجود ہیں ،جومذہب کےذریعے بھائی چارے اور رواداری کے فروغ کے لیے کام کرے رہے ہیں۔

دنیا بھر میں مذہبی اقلیتوں کی صورت حال پر تحقیق کرنے والے ادارے مائنارٹی رائٹس گروپ انٹرنیشنل کی اس سال شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق جنوبی ایشیا کےبہت سے ملکوں میں مذہبی تعصب پر مبنی تشدد میں اضافہ ہو رہا ہے۔رپورٹ کے مطابق پاکستان میں مذہبی اقلیتیں انتہا پسندی اور فرقہ وارانہ فسادات، دونوں کا ہی شکار ہو رہی ہیں۔

امریکہ میں مسلمانوں کی ایک تنظیم اسلامک سوسائٹی فار نارتھ امریکہ کے نیشنل ڈائریکٹر ڈاکٹر سید سعید کہتے ہیں کہ پاکستان سے آنے والی فرقہ وارانہ تشدد مبنی خبریں امریکی مسلمانوں کی تشویش میں اضافہ کرتی ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ پاکستان سے ایسی خبریں بہت زیادہ آنے لگی ہیں۔ یہ آج یا کل کی بات نہیں ہے۔ بلکہ کئی برسوں سے اس طرح کی خبریں آرہی ہیں کہ فلاں مسجد پر حملہ ہوا اور ایک خاص قسم کے نظریاتی گروپ نے ان سے مختلف نظریات رکھنے والوں کی عبادت گاہ پرحملہ کردیا۔معلوم نہیں کہ ان لوگوں کے دلوں میں کیا ہوتا ہے ،کیونکہ قران میں بار بار آیا ہوا ہے کہ یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ چاہے جنگ ہی کیوں نہ ہو، اور دونوں جانب کے لوگ ایک دوسرے کے خلاف چاہے صف آرا ہی کیوں نہ ہوچکے ہوں، مسلمانوں کے لیے یہ حکم ہے کہ وہ قطعا دوسروں کی عبادت گاہوں کو نقصان نہ پہنچائیں۔

ڈاکٹر سعید کا کہنا تھا کہ اسلام کے نام پر تشدد نہ صرف اسلام کے ساتھ، بلکہ مسلمانوں کے ساتھ نا انصافی ہے۔ امریکی ریاست ورجینیا میں مسلمانوں کے ایک ادارے آل ڈیلس ایریا مسلمز سوسائٹی سے منسلک نسیم خان بھی پاکستان میں انتہا پسندی کے رجحانات سے پریشان ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ پاکستان ایک خوبصورت ملک ہے جسے ہم نے دہشت گردوں کے حوالے کر دیا ہے۔ ہماری مساجد، ہمارے گھر، ہمارے گھر ، حتی ٰ کہ بچوں کو سکول لے جانے والی ویگنیں تک محفوظ نہیں ہیں ۔آخر ہم کیا کر رہے ہیں۔

اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے کئی اداروں کے مطابق تنازعات اورجنگ کا نشانہ زیادہ ترخواتین اور بچے ہی بنتے ہیں۔ لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ خواتین اور نوجوان اپنی مذہی تعلمات کی مدد سے اپنے علاقوں ٕمیں نہ صرف امن کو فروغ دے سکتے ہیں ، بلکہ مختلف مذاہب کے ماننے والوں کے درمیان بہتر تعلقات قائم کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔

دیکھا ابراہیم عابدی کئی برسوں سے افریقی ملک کینیا میں مختلف مذہبی گروہوں کے درمیان مفاہمت کے لیے کام کررہی ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ خواتین جنگ اور تنازعوں کے ماحول میں بہت سی ایسی خدمات سرانجام دے سکتی ہیں جن کا شاید انہیں پر امن ماحول میں موقع نہ ملے۔

وہ کہتی ہیں کہ امن کے زمانے میں معاشرے کا ہر نظام حسب معمول کام کرتا رہتا ہے۔ اور کوئی خاص مسئلہ پیش نہیں آتا۔ایسے حالات میں خواتین یا نوجوانوں کی خدمات کم ہی توجہ دی جاتی ہے کیونکہ دین، امن اور تحفظ کے میدان میں کردار ادا کرنے والے زیادہ ترمرد ہی ہوتے ہیں۔ خواتین اور نوجوان کی خدمات کو سب سے زیادہ سراہا بھی اس وقت جاتا ہے جب وہ کسی بحرانی صورت حال سے نکلنے کی کوششوں میں سامنے آتے ہیں ۔

مذہی ہم آہنگی کے لیے کام کرنے والی تنظیم سینٹر فار ریلیجس ٹالرینس کی اینڈریا بلانچ کہتی ہیں کہ خواتین ہی اس بات کا بہتر اندازہ لگا سکتی ہیں کہ وہ اپنی کمیونٹی کی خدمات کی راہ میں حائل رکاوٹیں کس طرح دور کرسکتی ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ چونکہ خواتین اپنی ثقافت اور حدود کو بہتر طور پر جانتی ہیں اور اس کے بارے میں وہ کسی بیرونی ماہر سے بہتر ادراک رکھتی ہیں اس لیے وہ زیادہ بہتر طورپر جانتی ہیں کہ اپنی روایات اور حدود وقیود کے اندر رہتے ہوئے وہ ان رکاوٹوں کو کس طرح دور کرسکتی ہیں۔

بلقیسو یوسف گزشتہ کئی برسوں سے افریقی ملک نائجیریا میں امن کے قیام کے لیے کام کررہی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ مذہبی تشدد اور فرقہ واریت کا راستہ صرف اسی صورت میں روکا جاسکتا ہے ، جب سب لوگ مل کرامن کے لیے کام کریں۔

وہ کہتی ہیں کہ ہمیں اپنے اختلافات کا اعتراف کرنا ہو گا۔ ہم سب کے خیالات اور نظریات ایک جیسے نہیں ہو سکتے۔ لیکن مختلف مذاہب کے اندر بھی بہت ایک یکساں نظریات ہوتے ہیں۔ ہم اپنے مشترکہ عقائد کی بنیاد پر ایک دوسرے کے ساتھ کام کر کے حالات کو بہتر بنا سکتے ہیں۔

اخباروں اور ٹی وی کی شہ سرخیوں میں دہشت گردی، انتہا پسندی اور فرقہ وارانہ فسادات کوعام طور پر نمایاں جگہ ملتی ہے ،لیکن ان واقعات کے پس پردہ دنیا بھر میں مفاہمت اور امن کے فروغ کی مہم بھی جاری ہے، جسے ماہرین کے مطابق مذہب کی مدد سے کامیابی سے پایہ تکمیل تک پہنچایا جا سکتاہے۔

XS
SM
MD
LG