رسائی کے لنکس

مذہب اور امریکی خارجہ پالیسی، ایک تجزیہ

  • محمد الشناوی

مذہب اور امریکی خارجہ پالیسی، ایک تجزیہ

مذہب اور امریکی خارجہ پالیسی، ایک تجزیہ

امریکی آئین میں کہا گیا ہے کہ ملک کی حکومت کو مذہبی امور سے الگ رہنا چاہیئے ۔ حکومت کو کسی مذہب کی حمایت نہیں کرنی چاہیئے اور لوگوں کی مذہبی آزادی پر کسی قسم کی پابندیاں نہیں ہونی چاہئیں ۔ تھامس جیفرسن نے جن کا شمار امریکی ریاست کے بانیوں میں ہوتا ہے، لکھا ہے کہ امریکی آئین کی ان شقوں کا مطلب یہ ہے کہ چرچ اور ریاست کے درمیان علیحدگی کی دیوار حائل ہے۔ لیکن بعض دانشوروں کا خیال ہے کہ بین الاقوامی امور میں، امریکی حکومت کو مذہب پر زیادہ توجہ دینی چاہیئے اور یہ بات سمجھنی چاہیئے کہ دنیا بھر میں عام لوگوں کی زندگیوں میں مذہب کا رول اہم ہے۔

کیا مذہب پر توجہ دینے سے امریکہ کو اپنی خارجہ پالیسی کے مقاصد حاصل کرنے میں مدد مِل سکتی ہے؟ شکاگو کونسل آن گلوبل افیئرز کے حالیہ تحقیقی مطالعے میں اس سوال کا جواب اثبات میں دیا گیا ہے ۔ یہ کونسل ایک غیر جانبدار تنظیم ہے جس کا مقصد عالمی مسائل پر تبادلۂ خیال کو فروغ دینا ہے۔ اس کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکہ کی خارجہ پالیسی کے لیے بیرونی ممالک میں مذہبی گروپوں کے ساتھ رابطے قائم کرنا وقت کا اہم تقاضا ہے ۔

کونسل کے پراجیکٹ ڈائریکٹرتھامس رائٹ کہتے ہیں’’مذہبی شخصیتیں عالمی سیاست میں روز بروز زیادہ اہم ہوتی جا رہی ہیں اور گذشتہ عشرے کے دوران امریکہ نے ان سے رابطے قائم کرنے میں بہت زیادہ دلچسپی اور دانشمندی سے کام نہیں لیا ہے ۔‘‘

رائٹ کہتے ہیں کہ مثال کے طور پر عراق اور افغانستان میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکہ نے با اثر مذہبی لیڈروں سے رابطہ نہیں کیا۔ ایسے اہم مذہبی لیڈروں کے ساتھ رابطوں کے نتیجے میں جو تشدد کے قائل نہیں، نئے اتحاد اور نئے راستے وجود میں آ سکتے ہیں جن کے ذریعے دنیا کے بہت سے شورش زدہ علاقوں میں امن اور خوشحالی کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔ گذشتہ سال قاہرہ میں اپنی تقریر میں صدر اوباما نے مسلمان آبادیوں اور مسلمان مملکتوں کو خطاب کیا تھا ۔

رائٹ کا کہنا ہے کہ صدر اوباما نے مسلمان آبادیوں کے ساتھ رابطے کی جو کوشش کی تھی اسے وسعت دی جانی چاہیئے۔ امریکی حکومت میں ایسے عہدے داروں کی تعداد میں اضافہ کیا جانا چاہیئے جو عالمی امور میں مذہب کے رول کو سمجھتےہوں اور قومی سیاست میں مذہبی لیڈروں کی اہمیت سے واقف ہوں۔ دوسری بات یہ ہے کہ بیرونی ملکوںمیں مذہبی کمیونٹیوں سے رابطہ صرف سکیورٹی کے روایتی امور تک محدود نہیں رہنا چاہیئے بلکہ اس میں تعلیم، اقتصادی ترقی، کاروبار، سائنس اور ٹیکنالوجی کوبھی شامل کیا جانا چاہیئے۔رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ اگر اہم مذہبی مسائل اور شخصیتوں کے ساتھ زیادہ سنجیدگی اور ذمہ داری سے رابطہ قائم نہ کیا گیا تو امریکہ اختلافات دور کرنے اور امن قائم کرنے کے بہت سے اہم مواقع سے محروم ہو جائے گا۔

امام فیصل عبدالرؤف اس خیال سے متفق ہیں ۔ وہ کورڈوبا انیشیٹو کے چیئر مین ہیں ۔ یہ تنظیم مسلمان دنیا اور مغربی ملکوں کے درمیان بہتر مفاہمت کے فروغ کے لیے وقف ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ کسی کمیونٹی کی بنیادی مذہبی اقدار کو سمجھنے اور ان کا احترام کرنے سے امریکی ڈپلومیسی ایسے اتحاد قائم کر سکتی ہے جو دیر پا امن قائم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔

امام عبد الرؤف نے کہا’’مسائل کی ایک وجہ مذہب ہے اس لیے ان کے حل میں بھی اس کا رول ہونا چاہیئے۔ اگر آپ نے مذہب کو نظر انداز کر دیا اور کُھل کر بات نہ کی تو پھر یہ اور بڑا مسئلہ بن جائے گا۔‘‘

لیکن سیکولر کولیشن آف امریکہ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر شان فیئرکلاتھ اس خیال سے متفق نہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ جب کوئی ملک مذہب کو اپنی خارجہ پالیسی کا لازمی جزو بنا لیتا ہے تو عموماً اس کا نتیجہ تباہی کی صورت میں نکلتا ہے ۔ اس کی ایک مثال عراق کی جنگ ہے۔

شان کہتے ہیں’’جارج ڈبلیو بش کی صدارت اس لیے مشہور تھی کہ انھوں نے عراق کی جنگ کو صلیبی جنگ کا نام دیا تھا۔ انھوں نے کہا تھا کہ انھوں نے یہ فیصلہ کرنے کے لیے خدا سے رہنمائی حاصل کی تھی۔ اس اندازِ فکر سے امریکہ کی بنیادی اقدار کی نفی ہوتی ہے ۔‘‘

شان کہتے ہیں کہ یہ بات بالکل مناسب ہے کہ امریکہ مختلف ملکوں میں مذہب کے بارے میں پوری طرح با خبر ہو۔ تا ہم امریکہ کی خارجہ پالیسی کا مقصد دنیا کے تمام شہریوں کی بھلائی ہے چاہے ان کا مذہب کچھ بھی کیوں نہ ہو اور اس کے لیے سیکولر اندازِ فکر ضروری ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ہماری خارجہ پالیسی سیکو لر ہونی چاہیئے اور ہمارے آئین کی طرح اس کا مقصد تمام امریکی شہریوں کی مدد ہونا چاہیئے ۔آئین کے تحت اس ہدایت کا سرچشمہ امریکی عوام ہیں۔ یہ ہدایت عیسائیوں یا مسلمانوں کے خدا کی طرف سے نہیں بلکہ امریکی عوام کی طرف سے اور ہمارے آئین کے تحت دی گئی ہے ۔ ہم تمام لوگوں کے ساتھ امن سے رہنا چاہتے ہیں۔ اس میں دنیا بھر کے مذہبی لوگ اور مختلف مکاتبِِ فکر کے لوگ شامل ہیں۔

امام عبد الرؤف یہ بات تسلیم کرتے ہیں کہ مذہب کو خارجہ پالیسی کا جزو بنانے میں خطرہ ضرور ہے۔ اگر مذہب کو غلط طریقے سے استعمال کیا جائے تو اس سے اور زیادہ بڑے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔’’اگر آپ اسے غلط طریقے سے استعمال کرتے ہیں تو یہ اور زیادہ خطرناک ہو جاتا ہے۔ یہ بات ہر اس چیز کے لیے صحیح ہے جو طاقتور ہوتی ہے۔ آپ کو مذہب کو اختلافات کی خلیج پاٹنے کے لیے استعمال کرنا چاہیئے۔ مذہب کے استعمال میں آپ کو اپنی تخلیقی صلاحیتوں سے کام لینا ہو گا۔‘‘

لیکن شکاگو کونسل آن گلوبل افیئرز نے جو نتیجہ اخذ کیا ہے وہ یہ ہے کہ مذہب سے کام لیا جانا چاہیئے ۔ کونسل نے انتباہ کیا ہے کہ اگر صرف سیکولر طریقے سے کام لیا گیا تو اس کا ایک غیر ارادی نتیجہ یہ نکل سکتا ہے کہ ثقافتی شناخت کے روایتی طریقے مسترد کر دیے جائیں اور اس طرح انتہا پسندی میں اضافہ ہو سکتا ہے ۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکی خارجہ پالیسی کے لیے چیلنج یہ ہے کہ مذہب کو نہیں، بلکہ مذہبی انتہا پسندی کو غیر موئثر کر دیا جائے۔

XS
SM
MD
LG