رسائی کے لنکس

پاکستان میں درسی کتب میں مذہبی تعصب عدم رواداری کی وجہ: رپورٹ

  • ندیم یعقوب

فائل فوٹو

فائل فوٹو

وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر لینٹوس نے کہا کہ ’’ہم ایمانداری سے یہ سمجھتے ہیں کہ امریکی وزارت خارجہ کی جانب سے پاکستان کو انٹرنیشنل رلیجس فریڈم ایکٹ کے تحت خصوصی تشویش والا ملک قرار دیا جانا چاہیے

پاکستان میں مذہبی تعصب کی ایک وجہ اسکولوں میں پڑھائی جانے والی کتابیں ہیں جن میں دوسرے مذاہب کے بارے میں عدم رواداری اور مذہبی منافرت کی درجنوں مثالیں موجود ہیں اور جو سال ہا سال سے بچوں کو پڑھائی جا رہی ہیں۔

یہ خلاصہ ہے یونائٹڈ اسٹیٹس کمیشن آن انٹرنیشنل رلیجس فریڈم کے زیر اہتمام تیار کی جانے والی ایک تازہ رپورٹ کا جسے گزشتہ روز واشنگٹن میں شائع کیا گیا۔

امریکی ادارے کی مدد سے یہ رپورٹ پاکستان کی ایک غیر سرکاری تنظیم پیس اینڈ ایجوکیشن فاوٴنڈیشن نے مرتب کی ہے۔ فاؤنڈیشن کے صدر اظہر حسین نے اس رپورٹ کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں را ئج 78 درسی کتب میں مذہبی عدم برداشت اور منافرت کی ستر نئی مثالیں سامنے آئی ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ "رپورٹ کی تیاری کے دوران مجھے حیرانگی ہوئی کی پاکستان میں لوگوں میں ابھی تک واضح نہیں کہ ملک میں مذہبی اقلیتوں کا کیا کردار ہے۔ اور ابھی تک 95فی صد آبادی مسلمان ہونے کے باوجود لوگ یہ محسوس کیوں کرتے ہیں کہ اگر ہم اقلیتوں کو مساوی حقوق دے دیں گے تو اسلام کو خطرہ لاحق ہو جائے گا۔‘‘

واشنگٹن کے نیشنل کلب میں ’’ٹیچنگ ان ٹالرنس ان پاکستان‘‘ نامی رپورٹ کے اجرا کے موقع پر امریکی ادارے کی کمشنر ڈاکٹر کیٹرینا لینٹوس نے پاکستان میں مذہبی آزادی اور اقلیتوں کے حقوق کے بارے میں پائی جانے والی صورتحال کے بارے میں مایوسی کا اظہار کیا۔

انھوں نے کہا کہ ان کے ادارے نے سن 2011میں مذہبی آزادی کے بارے میں ایک رپورٹ تیار کی تھی جس میں باقاعدہ پاکستان کی اقلیتوں کے خلاف مذہبی منافرت اور تعصب کی مثالیں موجود تھیں مگر چار سال کے بعد بھی بقول ان کے اس صورتحال میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ۔

وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر لینٹوس نے کہا کہ ’’ہم ایمانداری سے یہ سمجھتے ہیں کہ امریکی وزارت خارجہ کی جانب سے پاکستان کو انٹرنیشنل رلیجس فریڈم ایکٹ کے تحت خصوصی تشویش والا ملک قرار دیا جانا چاہیے کیونکہ ایسا کرنے سے ہماری حکومت کو موقع مل جاتا ہے کہ وہ دوسری حکومت کے ساتھ بات چیت کر سکے اور یہ کوئی تعزیری کارروائی نہیں ہوتی مگر اس ملک کی مدد کے لیے ہوتی ہے کہ وہ اپنے لئے کوئی لائحہ عمل تیار کر سکے‘‘۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی ترجیحات میں سرفہرست توہین رسالت کے قوانین میں اصلاحات ہونی چاہیں اور ایسے افراد پر بھی مقدمے چلائے جانے چاہیں جو اس قانون کو ذاتی وجوہات کی بنا پر بدلہ لینے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ ڈاکٹر لینٹوس کا کہنا تھا کہ اگر حکومت سیاسی عزم کا مظاہرہ کرے تو پاکستان کے اندر عمومی طور پر پائے جانے والے بیانیے کو تبدیل کیا جا سکتا ہے۔

واشنگٹن میں واقع تھنک ٹینک ووڈرو ولسن سنٹر سے منسلک جنوبی ایشیائی امور کے ماہر مائیکل کوگلمین نے اس موقع پر کہا کہ پاکستان کے سیاسی حقائق ایسے ہیں کہ حکومت کوئی ٹھوس حکمت عملی و ضع نہیں کر پائی۔

انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے پاکستان میں ایسے مذہبی انتہا پسند عناصر موجود ہیں جو مذہبی آزادی کے لئے آئینی ا صلاحات کے حوالے سے حکومت کی کسی بھی کوشش کی مزاحمت کریں گے اور حکومت ایسی صورتحال سے نمٹنا نہیں چاہتی۔

پاکستان کی پارلیمان کی سابق رکن اور پاکستان میں اقلیتوں کے بارے میں ایک کتاب کی مصنفہ فرح ناز اصفہانی نے بھی اس موقع پر خطاب کیا ۔

XS
SM
MD
LG