رسائی کے لنکس

وفاق المدارس العربیہ کے سیکرٹری جنرل قاری حنیف جالندھری نے کہا کہ اةن کی تنظیم معاونت کے لیے تیار ہے مگر مذاکرات کا مینڈیٹ حکومت کے پاس ہے۔

پاکستان میں دہشت گردی کا مسئلہ مذاکرات کے ذریعے حل کرنے پر اتفاق رائے کے باوجود ملک کے شمال مغربی حصے میں شدت پسندی کے واقعات رک نہیں پا رہے ہیں اور ناقیدین اس صورت حال کی بنیادی وجہ ’’حکومت کی سطح پر ابہام‘‘ کو قرار دے رہے ہیں۔

مسلم لیگ (ن) کی حکومت کا موقف ہے کہ وہ مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے پر ثابت قدم رہے گی کیوں کہ خون ریز تشدد کی لہر کو ختم کرنے کا یہی موزوں راستہ ہے۔

وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان نے اپنے حالیہ بیان میں قیام امن کے لیے شدت پسندوں سے مذاکرات سے متعلق مذہبی شخصیات کی کوششوں کو سہراتے ہوئے کہا کہ حکومت اس سلسلے میں ان کی بھرپور معاونت کرے گی۔

وفاق المدارس العربیہ کے سیکرٹری جنرل قاری حنیف جالندھری نے پیر کو وائس آف امریکہ سے گفتگو میں حکومت کی جانب سے حمایت کی یقین دہانی کا محتاط انداز میں خیر مقدم کیا۔

’’فی الحال تو ہم ان کا شکریہ ادا کرتے ہیں کہ اُنھوں نے ہم پر اعتماد کیا لیکن ہمارا اصولی موقف ہے کہ (طالبان کے ساتھ) مذاکرات کا مینڈیٹ حکومت کے پاس مذاکرات اور اگر یہ عمل شروع کرنا ہے تو اس کو ہی پہل کرنا ہوگی۔‘‘

دیو بند مسلک سے تعلق رکھنے والے یہ علماء پہلے بھی ماضی میں اسلام آباد کی لال مسجد کے خطیب اور ان کے مسلح ساتھیوں کے علاوہ سوات میں عسکریت پسندوں کے ساتھ حکومت کی صلح کرانے کی کوششیں کر چکے ہیں۔

وفاق المدارس العربیہ سے منسلک علماء اور مدارس کے منتظمیں نے حال ہی میں شدت پسندوں اور حکومت کے درمیاں مذاکرات شروع کروانے کے لیے معاونت کار کا کردار ادا کرنے کی پیش کش کرتے ہوئے حکومت اور طالبان سے جنگ بندی کا مطالبہ کیا تھا۔

جبکہ سنی بریلوی مکتب فکر کے علماء نے اپنے ایک اجتماع میں مجوزہ حکومت، طالبان مذاکرات پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے حکومت پر زور دیا کہ شدت پسندوں کے ساتھ کسی بھی قسم کی بات چیت صرف ملک کے آئین و قانون کے تحت ہی ہونی چاہیئے۔
XS
SM
MD
LG