رسائی کے لنکس

تھائی لینڈ مذہبی عقیدوں پر یقین رکھنے والوں کا سب سے بڑا ملک بتایا گیا ہے، جس کے بعد آرمینیا، بنگلہ دیش ،جارجیا اور مارکو میں مذہبی رجحانات رکھنے والوں کی تعداد 93 فیصد ہے۔

ایک جائزہ رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں 60 فیصد سے زیادہ لوگوں کو 'مذہبی' کے طور پر شناخت کیا گیا ہے۔

گیلپ انٹرنیشنل کی طرف سے منعقدہ سروے میں دنیا کے 65 ملکوں کے 63 ہزار سے زائد لوگوں سے ان کے مذہبی رجحانات کے حوالے سے بات کی گئی۔

سروے کے نتائج کے مطابق دنیا بھر میں کسی بھی عقیدے پر یقین نا رکھنے والے افراد کی نسبت مذہبی لوگوں کی تعداد دگنی تھی۔

علاوہ ازیں دنیا لامذہب اور غیر مذہبی رجحانات رکھنے والوں کی 33 فیصد تعداد پر مشتمل ہے۔

جائزہ رپورٹ کا حیران کن نتیجہ یہ بھی بتاتا ہے کہ دنیا بھر میں بڑی عمر کے افراد میں مذہبی رجحانات کم ملے ہیں خاص طور پر 44 سے 54 برس کے افراد کم مذہبی تھے اور ان میں ملحد ہونے کا امکان تھا جبکہ دوسری طرف 25 سال سے کم عمر افراد کی شناخت مذہبی کے طور پر ہوئی ہے۔

گھریلو خواتین کو ملازمت پیشہ خواتین، ریٹائر افراد اور طالب علموں کے مقابلے میں زیادہ مذہبی پایا گیا ہے۔

رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ زیادہ تعلیم یافتہ لوگوں کے مقابلے میں رسمی تعلیم سے محروم افراد زیادہ مذہبی تھے جن میں ہر پانچ میں سے چار لوگ مذہبی تھے۔

اسی طرح یہ بھی پتہ چلا کہ امیر افراد میں مذہبی رجحان کم تھا خاص طور پر درمیانے درجے کی آمدنی پانے والوں میں لامذہب افراد کی تعداد 8 فیصد اور اعلیٰ آمدنی پانے والوں 25 فیصد تھی۔

جائزے کے مطابق تھائی لینڈ مذہبی رجحانات رکھنے والوں کا سب سے بڑا ملک ہے جہاں 94 فیصد لوگوں نے مذہبی کے طور اپنی شناخت کی جبکہ صرف ایک فیصد نے خود کو لامذہب بتایا۔

تھائی لینڈ کے بعد آرمینیا، بنگلہ دیش اور جارجیا میں مذہبی رجحانات رکھنے والوں کی تعداد 93 فیصد ہے۔

مطالعاتی جائزے کی درجہ بندی میں کم مذہبی ممالک کی حیثیت سے چین آخری نمبر پر ہے جہاں مذہبی لوگوں کے مقابلے میں دہریت پر یقین رکھنے والوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ چین میں صرف 6 فیصد نے اپنی شناخت مذہبی ظاہر کی جبکہ 61 فیصد نے کہا کہ وہ لامذہب ہیں۔

اس فہرست میں چین کے بعد جاپان کا نمبر ہے جہاں 13 فیصد افراد مذہبی رجحانات رکھتے ہیں۔

سویڈن میں 19 فیصد، چیک جمہوریہ میں 23 فیصد اور نیدر لینڈ اور ہانگ کانگ میں 26 فیصد لوگوں نے خود کو مذہبی بتایا۔

برطانیہ کو کم مذہبی ممالک کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے جہاں 30 فیصد افراد مذہبی ہیں جبکہ 53 فیصد نےکہا کہ وہ مذہبی نہیں ہیں۔ 13 فیصد افراد دہریت پر یقین رکھتے ہیں اور باقی لوگوں نے کہا کہ وہ مذہب کے حوالے سے اپنی شناخت نہیں جانتے ہیں۔

عالمی سروے میں بتایا گیا ہے کہ تمام براعظموں کے لوگوں میں مذہب کا رنگ غالب نظر آیا ہے جبکہ ایشیا، امریکہ، مشرق وسطیٰ اور مشرقی یورپ کی نسبت مغربی یورپ کو کم مذہبی قرار دیا گیا ہے۔

براعظم ایشیا، امریکہ، مشرق وسطیٰ، افریقہ اور مشرقی یورپ میں کسی بھی متبادل دین کے مقابلے میں مذہب پر عمل پیرا ہونے والوں کی تعداد دگنی بتائی گئی ہے۔

گیلپ انٹرنیشنل ایسوسی ایشن کے صدر جین مارک لیجر نے کہا کہ ہماری روزمرہ کی زندگی میں مذہب غالب نظر آتا ہے۔ دنیا بھر میں خود کو مذہبی تصور کرنے والوں کی تعداد نسبتاً زیادہ ہے مزید برآں نوجوانوں میں مذہبی رجحان کے ساتھ ہم یہ فرض کرسکتے ہیں کہ مذہبی لوگوں کی تعداد میں اضافہ جاری رہے گا۔

XS
SM
MD
LG