رسائی کے لنکس

صومالیہ کا انحصار ہم وطنوں کی ترسیلات پر ہے

  • صالح ہینسی

صومالیہ کا انحصار ہم وطنوں کی ترسیلات پر ہے

صومالیہ کا انحصار ہم وطنوں کی ترسیلات پر ہے

افریقی ملک صومالیہ میں لوگوں کی گذر اوقات کا زیادہ تر انحصار بیرونی ملک میں کام کرنے والے صومالی باشندوں کی بھیجی جانے والی رقوم پر ہے جو ڈیڑھ ارب ڈالر سالانہ سے بڑھ چکی ہیں۔اقوام متحدہ کا کہناہے کہ قحط میں گھرے اس ملک میں لاکھوں افراد کو مالی امداد کے ساتھ ساتھ پینے کے صاف پانی اور خوراک کی بھی اشد ضرورت ہے۔

محمد حسین مشرقی لندن سے کچھ پیسے صومالیہ میں موجود اپنے خاندان کو بھیج رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ قحط کے دوران ان کا خاندان ان کی مالی مدد پر انحصار کرتا ہے۔ ان کا کہناہے کہ اب وہاں کے لوگوں کے لیے معیشت ہم بیرونی ملکوں میں آباد صومالی باشندے ہیں۔

یہاں بسنے والے بہت سے صومالی اپنے خاندان اور دوستوں کو سینکڑوں ڈالر بھیجتے ہیں۔ داحاشبل صومالیہ کی سب سے بڑی منی ٹرانسفر کمپنی ہے۔ جو 40 سال پہلے قائم کی گئی تھی۔ عبدلریشد دوال اس کے چیف ایگزیکٹیو ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ لوگ جو یہاں بس چلاتے ہیں۔ اسپتالوں میں کام کر تےہیں وہ ہمارے دفتر آتے ہیں اور اپنے خاندان کو پیسے بھیجتے ہیں ایسے ہی لوگ ہیں جو پوری دنیا سے پیسے بھیجتے ہیں۔

صومالیہ ان افریقی ممالک میں شامل ہے جو قحط طے سب سے زیادہ متاثرہوئے ہیں۔ صومالیہ کے جنگ زدہ دارلحکومت موگادیشو میں لوگ بھوکے مر رہے ہیں۔ بہت سے لوگ بھاگ کر کینیا میں پناہ گزینوں کے کیمپ میں پہنچ گئے ہیں۔ اور اس علاقے میں اس وقت دس لاکھ افراد کو ہنگامی بنیادوں پر مدد کی ضرورت ہے۔

ہر سال بیرون ملک مقیم صومالی تقریبا ڈیڑھ ارب ڈالر صومالیہ بھیجتے ہیں۔ بیلی کا کہنا ہے کہ صومالیہ جیسی صورتحال میں غریب خاندانوں کے لیے پیسہ بھی بہت اہمیت رکھتا ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ میرے خیال سے اس طرح کی آفات میں لوگوں کے لیے مالی امداد بہت اہمیت رکھتی ہے۔ زیادہ تر امدادی تنظیمیں اب خوراک کے ساتھ مالی مدد فراہم کرنے کی کوشش بھی کر رہی ہیں۔ مالی امداد سے لوگ اپنے لیے جو بہتر ہو وہ کر سکتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس وقت لاکھوں لوگوں کو مدد کی ضرورت ہے اور خوراک ادویات اور ضروریات زندگی کی دوسری چیزوں کے ساتھ مالی امداد بھی مصیبت زدہ افراد کی مدد کے لیے نہایت اہم ہے۔

XS
SM
MD
LG