رسائی کے لنکس

کراچی: شہری حکومت کے قیام کی تیاریاں مکمل، سٹی ہال کا افتتاح


سٹی کونسل ہال کا دروازہ

سٹی کونسل ہال کا دروازہ

نئے سٹی کونسل ہال میں نشستوں کی تعداد 255 سے بڑھا کے 324 کردی گئی ہے۔ مئیر اور ڈپٹی مئیر سمیت 309 اراکین ایوان کا حصہ ہوں گے اور اسی ہال میں ان کی نشستیں ہوں گی

کراچی میں شہری حکومت کے قیام کی تیاریاں تقریباً مکمل ہوگئی ہیں۔ وزیر بلدیات جام خان شورو نے پیر کو میٹروپولیٹن کارپوریشن کی ایم اے جناح روڈ پر واقع تقریباً 80 سالہ تاریخی عمارت کے اس ہال کا بھی باقاعدہ افتتاح کیا، جس کی پچھلے آٹھ ماہ سے تزئین و آرائش جاری تھی۔

یہ ’سٹی کونسل ہال‘ کہلاتا ہے۔ اس کے افتتاح کے موقع پر وائس آف امریکہ اور دیگر میڈیا نمائندوں سے گفتگو میں جام خان شورو نے کہا ’’عمارت کی تزئین و آرائش پر دو کروڑ روپے خرچ ہوئے ہیں بلدیاتی نمائندوں کے لئے سندھ حکومت کا یہ پہلا تحفہ ہے۔‘‘

سٹی کونسل ہال کے باہر لگی تختی

سٹی کونسل ہال کے باہر لگی تختی

وزیر بلدیات کا یہ بھی کہنا تھا کہ بلدیہ عظمیٰ واحد کونسل ہے جسے ماہانہ گرانٹ دی جاتی ہے۔ منتخب بلدیاتی نمائندوں کے سامنے یہ بڑا چیلنج ہوگا کہ وسائل بڑھائیں۔ جہاں تک انہیں اختیارات دئیے جانے کی بات ہے تو بلدیاتی نمائندوں کو وہ تمام اختیارات ملیں گے جو قانون نے دیئے ہیں۔‘‘

نئے سٹی کونسل ہال میں نشستوں کی تعداد 255 سے بڑھا کے 324 کردی گئی ہے۔ مئیر اور ڈپٹی مئیر سمیت 309 اراکین ایوان کا حصہ ہوں گے اور اسی ہال میں ان کی نشستیں ہوں گی۔

سٹی کونسل ہال کو برطانوی دور کی تاریخی حالت میں بحال کیا گیا ہے۔ سرکاری طور پر بتایا جا رہا ہے کہ کراچی کے مئیر اور ڈپٹی مئیر کا انتخاب 24 اگست کو جبکہ ان کی حلف برداری 30 اگست کو ہوگی۔ مئیر کے انتخابات کے بعد یہاں چھ سال بعد اجلاس منعقد ہوگا۔

کراچی میٹرو پولیٹن کارپویشن کی عمارت کا بیرونی منظر

کراچی میٹرو پولیٹن کارپویشن کی عمارت کا بیرونی منظر

ڈائریکٹر کراچی میٹروپولیٹن غفران احمد کے مطابق چونکہ عمارت تاریخی ورثہ ہے۔ لہٰذا، اس کی بناوٹ میں کوئی تبدیلی نہیں کرسکتے تھے۔ لہذا تاریخی طرز پر ہی تزئین کی گئی ہے۔

تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ اس عمارت کا افتتاح 1933میں ہوا تھا۔ اس میں قائم سٹی کونسل ہال سندھ اسمبلی کی عمارت جیسی دلکش تو نہیں، لیکن اپنی مثال آپ ہے۔

غفران احمد نے بتایا کہ 2013 کے سٹی کونسل ایکٹ کے تحت میئر کونسل کے اجلاس کی صدارت کرے گا اور اسی کو اسپیکر کے فرائض انجام دینا ہوں گے، میئر کی عدم موجودگی میں ڈپٹی میئر یہ فرائض انجام دے گا۔

کے ایم سی عمارت کا اندرونی منظر

کے ایم سی عمارت کا اندرونی منظر

کراچی میں بلدیاتی انتخابات گزشتہ سال 5 دسمبر کو ہوئے تھے، لیکن ابھی تک بلدیاتی نمائندوں کو شہری حکومت کو قائم کرنے کا موقع نہیں مل سکا ہے، اب امید ہے کہ اگلے ماہ کے آغاز کے ساتھ ہی سٹی کونسل ہال آباد ہوجائے گا اور ملک کے سب سے بڑے و تجارتی شہر کے معاملات یہیں سے چلائے جائیں گے۔

5 دسمبر کو ہونے والے بلدیاتی انتخابات کے تیسرے مرحلے میں متحدہ قومی موومنٹ نے سب سے زیادہ 135 نشستیں حاصل کی تھیں جبکہ اس کے بعد ترتیب وار پاکستان پیپلز پارٹی، مسلم لیگ، تحریک انصاف، جماعت اسلامی، جے یو آئی اور اے این پی کا نمبر آتا ہے۔

XS
SM
MD
LG