رسائی کے لنکس

’بجیا‘ پہلے ہی کینسر کے مرض میں مبتلا ہیں۔ اور ڈاکٹروں نے انہیں آرام کی سخت تاکید کی تھی، لیکن بجیا بیماری کے باوجود سماجی خدمت کے کاموں میں پیش پیش رہیں

پاکستان میں اپنے زور قلم سے ٹی وی ڈراموں کو ’آب حیات‘ پلانے والی فاطمہ ثریا اور عوام کی ہردل عزیز ’بجیا‘ علیل ہوگئی ہیں۔ ان پر فالج کا اٹیک ہوا ہے۔ وہ اس وقت ڈاکٹروں کی انتہائی نگہداشت میں ہیں۔

خاندان کے قریبی حلقے سے تعلق رکھنے والے ایک فرد نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر وائس آف امریکہ کو بتایا کہ ’بجیا کے جسم کا نصف حصہ فالج سے بری طرح متاثر ہوا ہے۔ ان کی ناسازیٴطبیعت کے سبب ڈاکٹرز نے ان سے ملاقاتوں پر پابندی لگائی ہوئی ہے۔

’بجیا‘ پہلے ہی کینسر کے مرض میں مبتلا ہیں اور ڈاکٹروں نے انہیں آرام کی سخت تاکید کی تھی، لیکن بجیا بیماری کے باوجود، سماجی خدمت کے کاموں میں پیش پیش رہیں۔

وہ نامور ڈرامہ نگار اور میزبان انور مقصود، معروف شاعرہ زہرہ نگاہ اور کوکنگ ایکسپرٹ زیبدہ آپا کی بہن ہیں۔

انہیں حکومت پاکستان کی جانب سے ’پرائیڈ آف پرفارمنس‘ اور ’ہلال امتیاز‘ اور جاپان کے اعلیٰ ترین سول اعزاز سے بھی نوازا جا چکا ہے۔

ٹرینڈ سیٹر
پاکستان ٹی وی ڈراموں کی جب بھی تاریخ لکھی جائے گی بجیا کا نام اس میں بطور ٹرینڈ سیٹر سنہری حروف سے لکھا جائے گا۔ ناولز کی ڈرامائی تشکیل سے لے کر خاندانی روایات اور رسم و رواج میں گندھے ڈرامے بجیا کے زور قلم کا نتیجہ تھے۔ باقی کے علاوہ ’شمع‘، ’افشاں‘، ’عروسہ‘ ،’انا‘ امر ہو چکے ہیں۔

بجیا اپنے ڈراموں کی ہیروئن خود پسند کرتی تھیں اور ان کی ہیروئنز کے بارے میں یہ دلچسپ بات مشہور تھی کہ جو لڑکی بھی بجیا کی ہیروئن بنتی ہے اس کی فوراً شادی ہوجاتی ہے۔

بہت کم لوگوں کو شاید یہ بات معلوم ہو کہ ٹیلی ویژن پر محفل میلاد شروع کرنے کا سہرا بھی بجیا کے سر ہے۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG