رسائی کے لنکس

پاکستان کی سپریم کورٹ نے ملک میں حالیہ مہینوں میں لگائے گئے کرائے کے بجلی گھروں کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے ان کی بندش کا حکم دیا ہے۔

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں عدالت عظمیٰ کے دو رکنی بینچ نے جمعہ کو اپنے فیصلے میں کہا کہ ان منصوبوں میں شفافیت کے پہلو کو نظر انداز کیا گیا جس سے قومی خزانے پر اربوں روپے کا اضافی بوجھ پڑا۔

عدالت نے پانی و بجلی کے سابق وفاقی وزیر اور حکمران پییلز پارٹی کے سینیئر رہنماء راجہ پرویز اشرف سمیت اُن تمام افراد کے خلاف کارروائی کا حکم بھی دیا جو ان منصوبوں میں بدعنوانی میں ملوث ہیں۔

سپریم کورٹ نے اپنے حکم میں کہا کہ اربوں روپے کی بدعنوانی میں کی ذمہ داری بجلی پیدا کرنے والی سرکاری کمپنیوں یا جینکو، نیشنل الیکٹرک پاوور ریگولیٹری اتھارٹی، پاکستان الیکٹرک پاور کمپنی، واپڈا اور وفاقی حکومت پر عائد ہوتی ہے۔

حزب اختلاف کی جماعت مسلم لیگ (ن) کے خواجہ آصف اور حکمران اتحاد میں شامل مسلم لیگ (ق) کے فیصل صالح حیات کرائے کے بجلی گھروں کے خلاف عدالت عظمٰی میں دائر مقدمات میں درخواست گزار تھے اور انھوں نے اس فیصلے کو خوش آئند قرار دیا۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG