رسائی کے لنکس

افغان مہاجرین کی وطن واپسی کے عمل کو تیز کرنے پر اتفاق


افغان مہاجرین کی وطن واپسی کے عمل کو تیز کرنے پر اتفاق

افغان مہاجرین کی وطن واپسی کے عمل کو تیز کرنے پر اتفاق

پاکستان میں مقیقم لاکھوں افغان مہاجرین کی رضا کارانہ وطن واپسی کا عمل گزشتہ چند سالوں کے دوران سست روی کا شکار ہوا ہے جس کا ثبوت 2011ء میں صرف 52 ہزار مہاجرین کی افغانستان واپسی ہے۔

جمعرات کو اسلام آباد میں اقوام متحدہ، پاکستان اور افغانستان کے عہدیداروں کے سہ فریقی اجلاس میں مہاجرین کی واپسی سے متعلق صورت حال کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا اور اس بات پر اتفاق کیا گیا ہے کہ مہاجرین کی وطن واپسی کے لیے بین الاقوامی برادری کا بھرپور تعاون ناگزیر ہے۔

سرحدی امور اور افغان مہاجرین سے متعلق پاکستانی وزارت کے اعلیٰ عہدیدار عمران زیب نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں ان عوامل کا خاص طور پر ذکر کیا جن کی وجہ سے افغان مہاجرین اپنے ملک واپس جانے سے ہچکچاتے ہیں۔

’’عدم تحفظ تو یقینی طور پر ایک بڑی وجہ ہے جس کی وجہ مہاجرین واپس اپنے وطن نہیں جا رہے۔ اس کے ساتھ ساتھ گزر بسر کے لیے مواقع ہیں۔ تیسرا یہ ہے کہ جب لوگ یہاں سے واپس جائیں تو انھیں وہاں پر پناہ چاہیئے، زمین چاہیئے یہ مسئلے افغانستان میں موجود ہیں اور غیر موزوں حالات ہیں اس میں کوئی شک نہیں ہے‘‘۔

اقوام متحدہ کا ادارہ برائے مہاجرین یعنی یواین ایچ سی آر کے پاکستان میں سربراہ نیل رائٹس نے کہا کہ حالیہ کوششوں کے نتیجے میں افغانستان میں اڑتالیس ایسے علاقوں کی نشاندہی کی گئی ہے جہاں مہاجرین ترجیحی بنیادوں پر واپس جا کر آباد ہو سکتے ہیں۔

اُنھوں نے اس بات پر زور دیا کہ دوسرے لوگوں کی طرح ان مہاجرین کے لیے بھی افغانستان میں روزگار کے مواقع، صحت اور تعلیم جیسی سہولتوں کی فراہمی کو یقینی بنانے سے رضاکارانہ وطن واپسی کے عمل میں مدد ملے گی۔

’’اگر افغان مہاجرین کو موزوں مواقع فراہم کیے جائیں تو ایسی صورت حال ان کی وطن واپسی کے فیصلے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے‘‘۔

سہ فریقی اجلاس میں شریک اعلیٰ افغان عہدیدار علوزئی غازی نے کہا کہ عالمی برادری کی مدد کے بغیر مہاجرین کی وطن واپسی کی افغان حکومت کی کوششیں موثر ثابت نہیں ہو سکتیں۔

اجلاس میں یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ افغان مہاجرین کی واپسی کے عمل کا تسلسل برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ جہاں یہ لوگ واپس جائیں وہاں زندگی گزارنے کے ایسے مواقع موجود ہیں جس سے پاکستان میں ان کے دوبارہ داخلے کے رجحان کی حوصلہ شکنی کی جا سکے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں اندراج شدہ افغان مہاجرین کی تعداد 17 لاکھ ہے، لیکن حکام کا ماننا ہے کہ ملک میں مزید تقریباً 15 لاکھ ایسے افغان بھی ہیں جن کے کوائف حکومت کے پاس موجود نہیں۔

XS
SM
MD
LG