رسائی کے لنکس

سنہ 2013: دوران ِزچگی، تقریباً تین لاکھ خواتین کی موت: رپورٹ


رپورٹ کے مطابق، 2013ء میں دنیا بھر میں 289,000 ایسی خواتین جو امید سے تھیں، صاف پانی اور حفظان ِصحت تک رسائی نہ ہونے کے سبب اپنے گھر میں یا ہسپتال میں زچگی کے دوران موت کے منہ میں چلی گئیں

ایک نئی رپورٹ کے اعداد و شمار کے مطابق 2013ء میں دنیا بھر کے ترقی پذیر ممالک میں تقریباً تین لاکھ خواتین زچگی کے دوران ہونے والی پیچیدگیوں کے باعث موت کے منہ میں چلی گئیں۔

رپورٹ کے مطابق، خواتین کی ان اموات کی بڑی وجوہات میں صاف پانی کی فراہمی نہ ہونا، صفائی ستھرائی کا فقدان اور حفظان ِصحت کا خیال نہ رکھنا جیسے عوامل شامل ہیں۔

طبی جریدے ’پی ایل او ایس میڈیسن‘ میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق ترقی پذیر ممالک میں صفائی کے فقدان اور صاف پانی کی فراہمی نہ ہونے کے سبب، حاملہ خواتین کو زچگی کے دوران مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور نتیجتاً زچگی کے دوران ان کی موت کی شرح میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

یہ تحقیقی رپورٹ کئی عالمی تنظیموں کے ماہرین نے مل کر مرتب کی ہے جس میں ورلڈ ایڈ، دی ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن، دی لندن سکول آف ہائیجین اینڈ ٹروپیکل میڈیسن، یونیسف اور اقوام ِمتحدہ کا پوپولیشن فنڈ جیسے ادارے شامل ہیں۔

رپورٹ کے مطابق 2013ء میں دنیا بھر میں 289,000 ایسی خواتین جو امید سے تھیں، صاف پانی اور حفظان ِصحت تک رسائی نہ ہونے کے سبب اپنے گھر میں یا ہسپتال میں زچگی کے دوران موت کے منہ میں چلی گئیں۔

گذشتہ 15 برسوں میں دنیا بھر میں حاملہ خواتین کو حفظان ِصحت کی سہولیات فراہم کرنے کی عالمی کوششوں کے باوجود ترقی پذیر ممالک میں حاملہ خواتین کی شرح ِاموات ترقی یافتہ ممالک کی نسبت 14 گنا زیادہ رہی۔

ماہرین کہتے ہیں کہ جب خواتین کو حفظان ِصحت کی بنیادی سہولیات نہیں دستیاب ہوتیں اور انہیں پینے کا صاف پانی تک میسر نہیں ہوتا تو پھر ان میں مختلف طرح کی انفیکشنز ہونے کا خطرہ رہتا ہے، جو بعد میں پیچیدہ صورت اختیار کر لیتی ہیں۔

اسی لیے، ماہرین تجویز کرتے ہیں کہ ترقی پذیر ممالک میں اگر حاملہ خواتین کو پیدل زیادہ فاصلہ طے کرکے بھی صاف پانی کے حصول یا پھر رفع ِحاجت کے لیے جانا پڑے تو انہیں ایسا کرنا چاہیئے۔

رپورٹ کے مطابق، مشرقی افریقہ میں ہر برس تقریباً آٹھ ہزار حاملہ خواتین دوران ِ زچگی یا زچگی کی پیچیدگیوں کے باعث مر جاتی ہیں۔

XS
SM
MD
LG