رسائی کے لنکس

رپورٹ کے مطابق، تھرمامیٹر اور دوسرے سائنسی آلات یہ ظاہر کرتے ہیں کہ اس مہینے کا درجہٴ حرارت سنہ 1951 سے 1980 کے عرصے کے دوران اگست کے اوسط درجہٴ حرارت سے 1.8 ڈگری فارن ہائیٹ زیادہ تھا

اس سال اگست کے مہینے میں عالمی درجہٴ حرارت کا ایک نیا ریکارڈ قائم ہوا جس سے گرمی کے 136 سالہ تمام سابقه ریکارڈ ٹوٹ گئے ہیں۔

ہوابازی اور خلائی سائنس سے متعلق امریکی قومی ادارے NASA کی ایک تازہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 1880ء کے عشرے سے، جب سے موسم کے حوالے سے ریکارڈ رکھنے کا سلسلہ شروع ہوا ہے، 2016ء کا اگست گرم ترین مہینہ رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق، تھرمامیٹر اور دوسرے سائنسی آلات یہ ظاہر کرتے ہیں کہ اس مہینے کا درجہٴ حرارت سنہ 1951 سے 1980 کے عرصے کے دوران اگست کے اوسط درجہٴ حرارت سے 1.8 ڈگری فارن ہائیٹ زیادہ تھا۔

موجودہ اگست کا درجہٴ حرارت سنہ 2014 کے اسی مہینے میں ریکارڈ کیے جانے والے درجہٴ حرارت سے 0.98 درجے فارن ہائیٹ زیادہ تھا، جسے دوسرا سب سے زیادہ گرم اگست قرار دیا گیا ہے۔

ناسا کے ماہرین کا کہنا ہے کہ گذشتہ 11 برسوں سے اگست کے مہینے کے اوسط درجہٴ حرارت کا ریکارڈ مسلسل ٹوٹ رہا ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اس سال اگست کے مہینے کا اوسط درجہٴ حرارت اسی سال کے جولائی کے درجہٴ حرارت کے مساوی ہوگیا ہے، جسے اس سے پہلے، جب سے موسم کا ریکارڈ رکھا جانے لگا ہے، تاریخ کا گرم ترین مہینہ قرار دیا گیا تھا۔

موسمیات سے متعلق سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ اس سال گرمی کی لہر نے سنہ 2015 کا ریکارڈ توڑ دیا ہے جسے اس سے پہلے ریکارڈ کے مطابق تاریخ کا گرم ترین سال سمجھا جا رہا تھا۔

ناسا کے سائنس دانوں نے درجہٴ حرارت پر اپنی یہ رپورٹ دنیا بھر میں 6300 موسمیاتی مراکز سے حاصل ہونے والے اعداد و شمار کی مدد سے تیار کی ہے۔

عالمی درجہ ٴحرارت میں مسلسل اضافے کے اثرات اب کرہٴ ارض پر نمایاں طور پر ظاہر ہونا شروع ہوگئے ہیں۔ قطبی علاقوں میں ہزاروں برسوں سے جمی ہوئی برف تیزی سے پگھل رہی ہے اور آرکٹک کے برفانی علاقے میں پہلی بار برف کی تہہ اپنی کم ترین سطح پر دیکھی جا رہی ہے۔ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو آپ پانی کو قطب شمالی کی جانب بڑھتا ہوا دیکھ سکیں گے۔

اس سے قبل کی سائنسی تحقيقات میں بتایا گیا تھا کہ قطبی علاقوں اور بلند و بالا پہاڑوں پر جمی ہوئی برف اور گلیشیئرز تیز رفتاری سے پگھلنے کے نتیجے میں دنیا کے کئی علاقوں میں طغیانیاں اور سيلاب بڑھ گئے ہیں اور سمندر کی سطح بلند ہو رہی ہے، جس سے آنے والے برسوں میں کئی ساحلی علاقوں کے ڈوب جانے کے خطرے میں اضافہ ہو گیا ہے۔

سائنس دانوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ درجہ ٴحرارت میں اضافے کا سلسلہ مسلسل جاری ہے اور گرمی کے نئے ریکارڈ قائم ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے بحرالکاہل میں خط استوا کے قریب La Niña کے موسمی اثرات کی پیش گوئی کی ہے۔ اس صورت حال میں سمندر کے پانی کا درجہٴ حرارت معمول سے کم ہو جاتا ہے، جس سے علاقے کا موسم تبدیل ہو سکتا ہے۔

اسی طرح، سائنس دانوں نے براعظم افریقہ سمیت دنیا کے کئی دوسرے ملکوں میں El Niño کے خطرے سے خبردار کیا ہے۔ ان موسمی اثرات کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر خشک سالی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

دنیا بڑھتے ہوئے عالمی درجہٴ حرارت کے خطرات سے بخوبي آگاہ ہے۔ گذشتہ دسمبر میں دنیا بھر کے 195 ملکوں کے ماہرین نے پیرس میں اکھٹے ہو کر ایک نئے چارٹر کی منظوری دی، جس میں عالمی درجہٴ حرارت کو کم کرکے صنعتی دور سے پہلے کے درجہٴ حرارت سے دو درجے اوپر تک لانا ہے۔ اس مقصد کے لیے درجہٴ حرارت میں اضافے کا سبب بننے والی گیسیں، جنہیں ’گرین ہاؤس‘ گیسوں کا نام دیا جاتا ہے، کا اخراج گھٹانا ہے۔ یہ گیسیں زیادہ تر کاربن کے مرکبات مثلاً معدنی تیل اور کوئلہ وغیرہ جلانے سے پیدا ہوتی ہیں اور اس کی زیادہ تر ذمہ داری بڑے صنعتی ملکوں پر عائد کی جاتی ہے۔

ابھی حال ہی میں صدر براک اوباما کے چین کے دورے کے موقع پر، امریکہ اور چین کے صدور نے کاربن گیسوں کے اخراج میں کمی سے متعلق پیرس سمجھوتے کی توثیق کی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ’گرین ہاؤس‘ گیسوں کے کل عالمی اخراج کے 38 فی صد ذمہ داری دنیا کی ان سب سے بڑی دو معیشتوں پر عائد ہوتی ہے۔

XS
SM
MD
LG