رسائی کے لنکس

حزب اللہ کمانڈر کو سی آئی اے اور موساد نے قتل کیا تھا، رپورٹ


حزب اللہ کے مقتول کمانڈر عماد مغنیہ کے بیٹے جہاد مغنیہ کے جلوسِ جنازہ کا منظر۔ جہاد گزشتہ ہفتے شام میں ایک اسرائیلی حملے میں ہلاک ہوگئے تھے

حزب اللہ کے مقتول کمانڈر عماد مغنیہ کے بیٹے جہاد مغنیہ کے جلوسِ جنازہ کا منظر۔ جہاد گزشتہ ہفتے شام میں ایک اسرائیلی حملے میں ہلاک ہوگئے تھے

'واشنگٹن پوسٹ' کے مطابق سی آئی اے اور موساد نے مشترکہ طور پر 'حزب اللہ' کی بین الاقوامیکارروائیوں کے سربراہ عماد مغنیہ کے قتل کی سازش تیار کی تھی۔

ایک امریکی اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ فروری 2008ء میں شام میں لبنانی مسلح تنظیم 'حزب اللہ' کے ایک اہم کمانڈر کا قتل امریکہ اوراسرائیل کی خفیہ ایجنسیوں کی مشترکہ کارروائی تھی۔

اخبار 'واشنگٹن پوسٹ' کے مطابق بعض سابق انٹیلی جنس حکام نے اخبار کو بتایا ہے کہ امریکہ کی 'سینٹرل انٹیلی جنس ایجنسی (سی آئی اے)' اور اسرائیلی خفیہ ایجنسی 'موساد' نے مشترکہ طور پر 'حزب اللہ' کی بین الاقوامی کارروائیوں کے سربراہ عماد مغنیہ کے قتل کی سازش تیار کی تھی۔

اخبار کی ویب سائٹ پر جمعے کی شب جاری کی جانے والی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مغنیہ کو شام کے دارالحکومت دمشق میں اس وقت ایک بم دھماکے کا نشانہ بنایا گیا تھا جب وہ اپنی کار کی جانب بڑھ رہے تھے۔

رپورٹ کے مطابق بم 'حزب اللہ' کمانڈر کی گاڑی کے پچھلے پہیے پر نصب کیا گیا تھا جس کے پھٹنے سے وہ موقع پر ہی ہلاک ہوگئے تھے۔

'واشنگٹن پوسٹ' نے دعویٰ کیا ہے کہ بم دھماکہ اسرائیل کے دارالحکومت تل ابیب میں موجود 'موساد' کے ایجنٹوں نے ریموٹ کے ذریعے کیا تھا جو مغنیہ کی نقل و حرکت کی نگرانی کرنے والے 'سی آئی اے' کے ایجنٹوں کے ساتھ رابطے میں تھے۔

اخبار کے مطابق اس کارروائی کے لیے امریکی اور اسرائیلی انٹیلی جنس ایجنسیوں کے درمیان "غیر معمولی قریبی تعاون" سے "ہدف کی اہمیت" کا اظہار ہوتا ہے۔

مغربی ملکوں کی انٹیلی جنس ایجنسیاں عماد مغنیہ کو 1980ء کی دہائی میں لبنان میں غیر ملکی باشندوں کے اغوا اور 1992ء میں ارجنٹائن میں واقع اسرائیلی سفارت خانے کے باہر بم دھماکے کا منصوبہ ساز قرار دیتی تھیں۔

'واشنگٹن پوسٹ' نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ امریکی حکام مغنیہ کو 'سی آئی اے ' کے آٹھ اہلکاروں سمیت سیکڑوں امریکی شہریوں کے قتل کا ذمہ دار بھی سمجھتے تھے۔

ایک سابق انٹیلی جنس اہلکار نے اخبار کو بتایا ہے کہ حزب اللہ کمانڈر کو قتل کرنے کی اجازت حاصل کرنا ایک "انتہائی مشکل اور دقت طلب" عمل تھا جس کے لیے 'سی آئی اے' کو متعلقہ حکام کے سامنے یہ ثابت کرنا پڑا کہ اس کا ہدف "امریکی شہریوں کے لیے ایک مستقل خطرہ" ہے۔

'واشنگٹن پوسٹ' کے مطابق ایک ایسے ملک میں قاتلانہ حملے کے لیے، جس کے ساتھ امریکہ حالتِ جنگ میں نہیں تھا، 'سی آئی اے' کو اس وقت کے صدر جارج ڈبلیو بش، اٹارنی جنرل، 'نیشنل انٹیلی جنس کے ڈائریکٹر، قومی سلامتی کے مشیر اور محکمۂ انصاف کے دفتر برائے قانونی معاونت کے سربراہ سے تحریری اجازت لینا پڑی تھی۔

اخبار نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ امریکہ نے عماد مغنیہ کے قتل کی کارروائی میں اپنے کردار سے متعلق ہمیشہ خاموشی اختیار کیے رکھی جب کہ حزب اللہ نے بھی اس قتل کا الزام صرف اسرائیل پر عائد کیا تھا۔

XS
SM
MD
LG