رسائی کے لنکس

داعش کا اہم شدت پسند کمانڈر الشیشانی ’ہلاک‘


فائل فوٹو

فائل فوٹو

شیشانی نے 2013 میں داعش کی حمایت کا اعلان کیا تھا اور ان کے ساتھ کئی روسی بولنے والے جنگجو بھی داعش کی طرف سے لڑائی میں حصہ لینے کے لیے ان کے ساتھ آئے تھے۔

عراق و شام میں سرگرم انتہا پسند تنظیم کا ایک اہم شدت پسند کمانڈر لڑائی میں موصل کے قریب مارا گیا ہے۔

داعش سے وابستہ نیوز ایجنسی عماق نے بدھ کو کہا کہ ابو عمر الشیشانی جو 'عمر دی چیجن 'کے نام سے بھی معروف تھا موصل کے قریب شرکت نامی علاقے مں لڑائی کے دوران مارا گیا۔

امریکی اور اتحادی فورسز نے چار مارچ کو شادادی کے علاقے میں ہوئی فضائی کارروائی سمیت متعدد بار شیشانی کو نشانہ بنانے کی کارروائیاں کیں۔

پینٹاگان کے ترجمان پیٹر کک نے کہا کہ "یہ ہمارا اندازہ ہے کہ وہ ایک کامیاب کارروائی تھی اور وہ اس کارروائی کے دوران ہلاک ہوا"۔

اب تک داعش تواتر کے ساتھ ان دعوؤں کو مسترد کرتی رہی کہ شیشانی ہلاک ہو گیا ہے۔

پینٹاگان کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ وہ شیشانی کی شرکت میں ہلاکت سے متعلق عماق کی رپورٹ سے آگاہ ہیں تاہم وہ نا تو اس کی تصدیق اور نا ہی تردید کر سکتے ہیں۔

نیویارک میں قائم ایک غیر سرکاری ادارے جو حکومتوں اور کثیر القومی اداروں کو سلامتی کے اہم امور کے بارے میں معلومات فراہم کرتا ہے، سے وابستہ ایک سابق انٹلیجنس عہدیدار پیٹرک سکننر نے کہا کہ "اب تک نو بار اس کی ہلاکت کی رپورٹس سامنے آئیں"۔

سکننر نے کہا کہ "شرکت، موصل کے لیے نہایت اہمیت کا حامل ہے اور شیشانی ایک اہم (شدت پسند) کمانڈر تھا ۔۔۔ اور یہ عین ممکن ہے کہ شیشانی وہیں ہوگا جہاں لڑائی ہو رہی ہے"۔

شرکت کا شہر موصل سے 100 کلومیٹر جنوب میں واقع ہے جبکہ القيارة سے اس کا فاصلہ 35 کلومیٹر ہے۔ عراقی سکیورٹی فورسز جنہیں امریکی فضائیہ کی بھی مدد حاصل ہے، نے گزشتہ ماہ کے اواخر سے اس علاقے میں پیش قدمی شروع کی اور کچھ دن پہلے ہی انہوں نے القیارۃ ویسٹ کے فضائی اڈے پر قبضہ کر لیا تھا۔

پیر کو بغداد کے دورے کے دوران امریکی وزیر دفاع ایش کارٹر نے کہا تھا کہ وہ عراق میں شدت پسند تنظیم کے خلاف جاری لڑائی میں مدد کے لیے 560 اضافی امریکی فوجی عراق بھیجیں گے جو بنیادی طور پر داعش سے واگزار کروائے گئے فضائی اڈے کی بحالی کے کام میں مدد دیں گے۔

شیشانی نے 2013 میں داعش کی حمایت کا اعلان کیا تھا اور ان کے ساتھ کئی روسی بولنے والے جنگجو بھی داعش کی طرف سے لڑائی میں حصہ لینے کے لیے ان کے ساتھ آئے تھے۔

محکمہ دفاع کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ شیشانی کے جنگی منظر سے ہٹ جانے کے بعد شدت پسند تنظیم کے لیے اپنی جنگی کارروائیوں کو مربوط کرنے اور موصل جیسے اہم شہروں کا قبضہ برقرار رکھنے کے لیے ایک بڑا دھچکا ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ اب داعش کے لیے چیچنیا اور قفقاز کے علاقوں سے غیر ملکی جنگجوؤں کو بھرتی کرنے کا عمل بھی متاثر ہوگا۔

امریکی محکمہ خارجہ نے شیشانی کے سر کی قیمت پچاس لاکھ ڈالر مقرر کر رکھی تھی۔

XS
SM
MD
LG