رسائی کے لنکس

شہر کے مختلف پارکوں میں لوگوں نے سائے دار درختوں کے نیچے دوپہر کا وقت گزارا۔ ایک حصے سے دوسرے حصے کو جانے والے راہگیروں نے جن میں بڑی تعداد موٹر سائیکل سواروں کی تھی، انہوں نے پارکوں، سایہ دار درختوں اور سائبانوں میں دوران سفر عارضی پناہ لی

کراچی میں ’ہیٹ ویو‘ کا پہلا ہی روز ایک قیمتی انسانی جان لے گیا، جبکہ شہر کے مختلف علاقوں سے متعدد افراد کے متاثر ہونے کی اطلاعات ہیں۔ ان اطلاعات کے باعث، شہریوں میں ایک انجانہ سا خدشہ پیدا ہوگیا ہے اور لوگ اگلے چند دن کے لئے مزید محتاط ہوگئے ہیں۔

شہر کےایک معتبر رفاعی ادارے ’ایدھی ٹرسٹ‘ کے مطابق منگھوپیر میں واقع مزار کے قریب سے ایک شخص بےہوشی کی حالت میں ملا جسے فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے اس بات کی تصدیق کی کہ ہیٹ اسٹروک موت کی اصل وجہ بنا۔

اس شخص کی شناخت شرافت جوکھیو کے نام سے ہوئی ہے جو لانڈھی کے قریب واقع رزاق آباد کا رہنے والا تھا اور منگھوپیر مزار پر حاضری کی غرض سے پہنچا تھا۔ شرافت جوکھیو کی عمر تقریباً 45سال بتائی جارہی ہے۔

کئی روز قبل جاری کئے گئے ’ہیٹ ویو الرٹ‘ میں محکمہ موسمیات نےپیش گوئی کی تھی کہ جمعہ سے اتوار تک کراچی میں موسم انتہائی گرم رہے گا اور درجہٴ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ سکتا ہے۔

جمعہ کو درجہٴ حرارت 38ڈگری سینٹی گریڈ رہا۔ دوپہر سے سہ پہر تک سمندری ہوائیں بند رہیں جس سے گرمی کا احساس بڑھ گیا۔ تاہم، تین بجے کے بعد سے ہوائیں دوبارہ چلنا شروع ہوگئیں۔

محکمہٴ موسمیات کے ہیٹ ویو الرٹ میں یہ پیش گوئی بھی کی گئی تھی کہ جنوب مغربی علاقوں سے چلنے والی سمندری ہوائیں 22 سے 25 اپریل تک رک سکتی ہیں جس کے باعث ملحقہ ساحلی علاقوں میں دن کے اوقات میں درجہ حرارت 38 سے 40 ڈگری سینٹی گریڈ تک بڑھ سکتا ہے۔

جمعہ کو شمال مغربی میدانی علاقوں سے گرم ہوائیں 5 سے 10 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتارسے چلیں، جبکہ ہوا میں نمی کا تناسب 55 فیصد رہا جو معمول کے مقابلے میں کم ہے۔

کراچی میونسپل کارپوریشن نے 10 مختلف علاقوں میں بحالی مراکز قائم کئے ہیں جہاں لوگوں کی ناصرف گرمی سے بچنے کی احتیاطی تدابیر سے مسلسل آگاہ کیا جاتا رہا بلکہ ٹھنڈے پانی، سرڈھاپنے کے لئے تولیہ اور معلوماتی لٹریچر مفت فراہم کیا جاتا رہا۔

اس دوران شہر کے مختلف پارکوں میں لوگوں نے سائے دار درختوں کے نیچے دوپہر کا وقت گزارا۔ ایک حصے سے دوسرے حصے کو جانے والے راہگیروں نے جن میں بڑی تعداد موٹر سائیکل سواروں کی تھی، پارکوں، سایہ دار درختوں اور سائبانوں میں دوران سفر عارضی پناہ لی۔

عوام نے ڈاکٹرز اور ماہرین موسمیات کے مشوروں پر عمل کرتے ہوئے پانی اور جوسز سمیت مختلف مشروبات کا دل کھول کا استعمال کیا۔ اس بہانے تربوز، کینو اور گنے کی جوس اسٹالز پر لوگوں کا تانتا بندھا رہا جبکہ ’شکنجی بین‘یعنی لیمو پانی اور ٹیٹراپیک اور بوتل میں بند جوسز کی ڈیمانڈ میں بھی تیزی دیکھی گئی۔

ہیٹ ویو کا پہلا روز شہریوں نے کس طرح گزارا اس کی مزید جھلک دیکھنے کے لئے کلک کیجئیے:

XS
SM
MD
LG