رسائی کے لنکس

داعش میں شمولیت، کئ پاکستانی بیرون ملک چلے گئے


حالیہ مہینوں میں داعش سے مبینہ طور پر وابستہ متعدد افراد کو گرفتار بھی کیا جا چکا ہے (فائل فوٹو)

حالیہ مہینوں میں داعش سے مبینہ طور پر وابستہ متعدد افراد کو گرفتار بھی کیا جا چکا ہے (فائل فوٹو)

حال ہی میں پنجاب میں پولیس کے محکمہ انسداد دہشت گردی نے داعش سے مبینہ طور پر وابستہ آٹھ افراد کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کرتے ہوئے بتایا تھا کہ یہ لوگ شام اور افغانستان جانے کی تیاری کر رہے تھے۔

اعلیٰ حکومتی عہدیداران گو کہ یہ کہتے آرہے ہیں کہ عالمی امن کے لیے سنگین خطرہ تصور کیے جانے والے شدت پسند گروپ داعش کا پاکستان میں کوئی منظم وجود نہیں ہے لیکن آئے روز اس گروپ سے مبینہ طور پر وابستہ افراد سے متعلق خبریں منظر عام پر آ رہی ہیں۔

ایک بڑے انگریزی رونامے "دی نیوز" نے پیر کو خبر دی کہ اسے ایسی دستاویز حاصل ہوئی ہیں جن کے مطابق تقریباً دو ہفتے قبل خواتین سمیت کم از کم 14 پاکستانی شہری داعش میں شمولیت کے لیے شام اور افغانستان گئے۔

خبر کے مطابق قاری عابد نامی مشتبہ شدت پسند نے ان لوگوں کو سماجی رابطوں کی ویب سائٹ کے ذریعے داعش میں شمولیت کے لیے آمادہ کیا۔

یہ امر قابل ذکر ہے کہ رواں ماہ ہی ملک کے گنجان آباد صوبے پنجاب میں پولیس کے محکمہ انسداد دہشت گردی نے داعش سے مبینہ طور پر وابستہ آٹھ افراد کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کرتے ہوئے بتایا تھا کہ یہ لوگ شام اور افغانستان جانے کی تیاری کر رہے تھے۔

پولیس کے مطابق اس گروہ میں کئی خواتین بھی شامل تھیں جو کہ تاحال مفرور ہیں اور انھیں حراست میں نہیں لیا جا سکا ہے۔

رواں سال ہی حکام نے بتایا تھا کہ اب تک درجنوں پاکستانی داعش میں شمولیت کے لیے بیرون ملک جا چکے ہیں۔

پاکستان کے سابق وفاقی وزیر داخلہ سینیٹر رحمن ملک کہتے ہیں کہ وہ گزشتہ دو سالوں سے یہ بات دہرا رہے ہیں کہ ملک میں داعش کے لوگ موجود ہیں جن کے خلاف موثر کارروائیوں کی ضرورت ہے۔

پیر کو وائس آف امریکہ سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ وہ حکومت سے یہ مطالبہ کرتے آ رہے ہیں کہ اس سے قبل کہ یہ گروپ منظم ہو اس کا قلع قمع کرنے کے لیے ٹھوس اقدام کیے جائیں۔

"جب کسی چیز کو اس کے شروع ہونے کے وقت ہی ختم نہیں کیا جاتا تو پھر وہ بعد میں تکلیف دیتی ہے۔"

حکومت میں شامل عہدیداروں کا کہنا ہے کہ وہ اس خطرے سے آگاہ ہیں اور حالیہ مہینوں میں اس گروہ سے مبینہ طور پر وابستہ افراد کی گرفتاریاں اور بعض کارروائیوں میں ان کی ہلاکت دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ کا اہم حصہ ہے۔

گزشتہ ہفتے ہی پنجاب کے محکمہ انسداد دہشت گردی نے اسلام آباد کے قریب واقع سیاحتی مقام مری میں داعش کے ایک مبینہ مقامی کمانڈر کو ہلاک کرنے کا بتایا تھا جب کہ اس کارروائی کے دوران دو مشتبہ شدت پسند فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے تھے۔

داعش رواں برس ملک میں ہونے والے بعض مہلک دہشت گرد حملوں کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ کر چکا ہے لیکن حکام اسے مقامی شدت پسندوں کی طرف داعش کا نام استعمال کر کے توجہ حاصل کرنے کی کوشش قرار دیتے آئے ہیں۔

ستمبر میں فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ نے ایک پریس کانفرنس میں انکشاف کیا تھا کہ ملک بھر سے داعش سے مبینہ طور پر منسلک 309 افراد کو گرفتار کیا گیا جن میں داعش کے ایک سرکردہ کمانڈر کے علاوہ غیر ملکی عسکریت پسند بھی شامل ہیں۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG