رسائی کے لنکس

ایک عرصے تک قتل کی شرح میں کمی کے بعد اچانک اضافہ قانون سازوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے بھی پریشان کن ہے جو کہ اس کی وجہ اور حل تلاش کرنے میں مصروف ہیں

امریکہ بھر سے حکام کے فراہم کردہ اعدادوشمار متعدد بڑے شہروں میں قتل کی وارداتوں میں بے پناہ اضافے کو ظاہر کرتے ہیں اور حکام اس کے اصل محرکات جاننے سے فی الحال قاصر رہے ہیں۔

اخبار "دی نیویارک ٹائمز" کا کہنا ہے کہ ملک بھر 30 سے زائد شہروں میں رواں سال قتل کی شرح میں گزشتہ برس اسی عرصے کی نسبت تیزی سے اضافہ دیکھا گیا۔

دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں رواں سال 105 افراد قتل ہوئے جب کہ پچھلے سال یہ تعداد 73 تھی۔

قریبی شہریوں بالٹیمور اور میری لینڈ میں رواں سال اب تک 215 افراد کو ہلاک کیا جا چکا ہے جب کہ 2014ء کے اسی عرصے کے دوران یہ تعداد 138 تھی۔

ایک سو سے زائد قتل کی وارداتیں دیگر شہریوں ملواکی، وسکونسن، سینٹ لوئس اور نیو اورلینز میں بھی ہوئیں۔

ایک عرصے تک قتل کی شرح میں کمی کے بعد اچانک اضافہ قانون سازوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے بھی پریشان کن ہے جو کہ اس کی وجہ اور حل تلاش کرنے میں مصروف ہیں۔

بعض کا کہنا ہے کہ نہتے سیاہ فام امریکی شہریوں کی پولیس اہلکاروں کے ہاتھوں ہلاکت جیسے واقعات کے تناظر میں پولیس کی طرف سے کم 'جارحیت' کا مظاہرہ کیا جانے لگا ہے۔

لیکن نیویارک ٹائمز کی خبر کے مطابق بعض اعلیٰ پولیس عہدیداروں کی نظر میں غریب نوجوانوں کی طرف سے معمولی تنازعات کو تشدد کے ذریعے حل کرنے کے رجحان میں اضافہ ہوا ہے۔

امریکہ کے بعض بڑے شہروں سے تقریباً 70 سے زائد پولیس عہدیداروں نے گزشتہ ماہ ایک ہنگامی اجلاس میں شرکت کی تھی جس میں اس معاملے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

قتل کی بڑھتی ہوئی شرح کے باوجود اخبار کا کہنا ہے کہ قتل اور تشدد کے دیگر واقعات کی شرح اب بھی 1980 اور 90 کی دہائی سے بہت حد تک کم ہے۔

XS
SM
MD
LG