رسائی کے لنکس

موٹاپے سے عالمی معیشت کو سالانہ 2 ٹریلین ڈالر کا نقصان


میک کینسی گلوبل انسٹی ٹیوٹ کی جانب سے شائع کردہ رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں دو ارب افراد جو کہ دنیا کی تقریباً ایک تہائی آبادی بنتی ہے، موٹاپے کا شکار ہیں اور 2030ء تک یہ شرح دنیا کی نصف آبادی تک بڑھ جائے گی

ایک عالمی ادارے کی حالیہ رپورٹ کے اعداد و شمار کے مطابق موٹاپے کی وجہ سے عالمی معیشت کو تمباکو نوشی یا پھر دہشت گردی کے خلاف جنگ کے برابر نقصان پہنچ رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، یہ نقصان دنیا بھر میں شراب نوشی سے ہونے والے نقصانات سے کہیں بڑھ کر ہے۔

طبی ماہرین ایک عرصے سے موٹاپے کو صحت اور دنیا کے لیے خطرہ قرار دیتے آئے ہیں۔ موٹاپے کے شکار افراد کی صحت کی ضروریات اپنے ہم عصر افراد سے زیادہ ہوتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ فربہی کی طرف مائل افراد اپنی خراب صحت کے پیش ِنظر اپنے ساتھیوں کی نسبت دفتر سے زیادہ چھٹیاں کرتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق، موٹاپے میں مبتلا افراد کی طبی ضروریات کی وجہ سے عالمی معیشت کو سالانہ دو ٹریلین یا 20 کھرب ڈالر کا نقصان پہنچتا ہے۔

میک کینسی گلوبل انسٹی ٹیوٹ کی جانب سے شائع کردہ رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں دو ارب افراد جو کہ دنیا کی تقریباً ایک تہائی آبادی بنتی ہے، موٹاپے کا شکار ہیں اور 2030ء تک یہ شرح دنیا کی نصف آبادی تک بڑھ جائے گی۔

میک کینسی گلوبل انسٹی ٹیوٹ کے مطابق، دنیا بھر میں ہونے والی 5 فی صد اموات موٹاپے کے باعث ہوتی ہیں۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ نہ صرف بڑی عمر کے افراد بلکہ بچے بھی موٹاپے کا شکار دکھائی دیتے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق موٹاپے میں مبتلا 80٪ بچے بڑے ہو کر بھی فربہی کی طرف مائل رہتے ہیں۔ طبی ماہرین بچوں میں موٹاپے کی بڑھتی شرح کی ایک وجہ فاسٹ فوڈ کو قرار دیتے ہیں۔

کسی بھی انسان میں موٹاپے کی شرح کو ان کے ’بی ایم آئی‘ سے ناپا جا سکتا ہے۔ اس عمل میں انسان کے وزن کو ان کے قد سے تقسیم کیا جاتا ہے۔

ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ اگر کسی فرد کا بی ایم آئی 25 یا اس سے زیادہ ہو تو اسے موٹاپے میں شمار کیا جاتا ہے۔

ماہرین ِصحت کا کہنا ہے کہ موٹاپے کو ایک سنگین مسئلے کے طور پر لینا چاہیئے اور اس حوالے سے آگہی پھیلانے اور ایسے اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے جس سے موٹاپے کے اس بڑھتے مسئلے پر قابو پایا جا سکے۔

XS
SM
MD
LG