رسائی کے لنکس

دوران سفر غیر قانونی تارکین وطن کا 'قتل عام'


فائل فوٹو

فائل فوٹو

کشتی پر سوار لوگوں نے بتایا کہ تارکین وطن کو تشدد کا نشانہ بنانے کے علاوہ لگ بھگ 60 لوگوں کو کشتی سے سمندر میں بھی پھینک دیا گیا۔

لیبیا سے تارکین وطن کو غیر قانونی طور پر اٹلی لانے والی کشتی کے مسافروں نے دوران سفر وحشیانہ تشدد اور قتل عام کا انکشاف کیا ہے۔

مہاجرین کی بین الاقوامی تنظیم "آئی او ایم" کے مطابق اس کشتی نے 750 مسافروں کو لے کر اپنا سفر شروع کیا تھا لیکن منزل پر صرف 569 افراد پہنچے جب کہ لگ بھگ 180 افراد کے بارے میں خیال یہی ہے کہ وہ ہلاک ہوچکے ہیں۔

ہفتہ کو اٹلی کی بحریہ نے گنجائش سے زیادہ مسافروں سے بھری اس کشتی پر سے سینکڑوں تارکین وطن کو زندہ بچا لیا۔

زندہ بچ جانے والوں کا کہنا ہے دوران سفر نسلی منافرت، امتیازی سلوک اور مختلف نسلوں کے لوگوں کے درمیان جھڑپوں کے واقعات پیش آئے۔

آئی او ایم کے ایک ترجمان فلاویو ڈی گیاکومو کا کہنا ہے کہ انھوں نے سسیلی کے ایک مرکز میں زندہ بچ جانے والے 25 مسافروں سے پوچھ گچھ کی۔

ان کے بقول یہ سب 18 سے 24 سال کی عمر کے نوجوان ہیں اور ان کا تعلق سب سہارن افریقہ سے ہے۔ تمام لوگ ابھی تک ایک خوف کی کیفیت میں ہیں۔

ڈی گیاکومو کا کہنا تھا کہ اسمگلروں نے شام، پاکستان، بنگلہ دیش اور مراکش کے تارکین وطن کو کشتی کے کشتی کے اوپر والے دو عرشوں پر جگہ دی تھی تاکہ انھیں تازہ ہوا میسر آسکے۔ لیکن سب سہارن افریقہ کے لوگوں کو نیچے رہنے پر مجبور کیا گیا۔

"ان پر تشدد کیا جاتا رہا اور چاقوؤں سے ان پر وار بھی کیے گئے، میں نے خود ان کے زخم دیکھے ہیں۔ ان لوگوں کو انجن کے پاس والی جگہہ پر رکھا گیا اور یہ نہایت خطرناک صورتحال ہوتی ہے، بہت تکلیف دہ بھی کیونکہ وہاں شدید گرمی ہوتی ہے اور ہوا کو گزر نہیں ہوتا۔ اس طرح موت بھی واقع ہوسکتی ہے اور کچھ کی ہوئی بھی لیکن ان کے پاس کوئی چارہ نہیں تھا۔"

ڈی گیاکومو نے مزید بتایا کہ ہوا خوری کے لیے اوپر والے عرشے پر جانے والے افریقی باشندوں کو تشدد کا نشانہ بنایا جاتا۔ تقریباً 29 تارکین وطن کی اسی حالت میں موت واقع ہوئی کیونکہ انھیں شدید گرمی میں نیچے ہی رہنے پر مجبور کیا گیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ کشتی پر سوار لوگوں نے بتایا کہ تارکین وطن کو تشدد کا نشانہ بنانے کے علاوہ لگ بھگ 60 لوگوں کو کشتی سے سمندر میں بھی پھینک دیا گیا۔

افریقی ملکوں سے آنے والے اکثر لوگ لڑائیوں، مذہبی ایذا رسانی اور مفلوک الحالی کی وجہ سے اپنے ملکوں کو چھوڑنا چاہتے تھے۔ ان میں نائیجیریا، نائجر، مالی، آئیوری کوسٹ اور گمبیا کے لوگ شامل تھے۔

ڈی گیاکومو کے کہنا تھا کہ افریقی تارکین وطن کے ساتھ اسمگلروں کو رویہ نہایت متعصبانہ تھا جب کہ دیگر ملکوں کے لوگوں کو لائف جیکٹس بھی فراہم کی گئی تھیں۔

ان کے بقول اسمگلروں کو صرف اس ایک سفر سے تقریباً چھ لاکھ ستر ہزار ڈالر کی آمدن ہوئی ہوگی۔ پانچ اسمگلروں کو حراست میں لیا گیا ہے اور ان سے تشدد اور قتل کے الزامات کے تحت تفتیش کی جارہی ہے۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین "یو این ایچ سی آر" کی ایک رپورٹ کے مطابق اس سال صرف بحیرہ روم میں سفر کے دوران مرنے والے تارکین وطن کی تعداد آٹھ سو سے زائد ہے۔

ادارے کے بقول ساڑھے سات ہزار سے زائد تارکین وطن سمندر کے راستے اٹلی، یونان، اسپین اور مالٹا پہنچے۔

XS
SM
MD
LG