رسائی کے لنکس

وائرل فیس بک پوسٹ میں اس نے لکھا کہ ایک 30سالہ مسافر لڑکی پر مسلسل زبانی حملے کر رہا تھا وہ مغلظات بک رہا تھا اور اس کا نشانہ معصوم لڑکی تھی، جسے وہ 'دہشت گرد' کے نام سے پکار رہا تھا اور پیرس حملوں کا ذمہ دار قرار دے رہا تھا

کہتےہیں کہ انسانیت کا کوئی مذہب نہیں ہوتا۔ انسانیت ہر رنگ، نسل اور مذہب کے ماننے والے انسانوں کی جبلت کا حصہ ہےجسے نفرت کی شدت کبھی اپنے ساتھ بہا لےجاتی ہے۔ لیکن، جیت ہمیشہ انسانیت کی ہوتی ہے۔

اس واقعہ کی ابتدا تو نفرت سےہوئی تھی جس میں پیرس حملوں کے تناظر میں ایک حجاب پہننے والی لڑکی پر لندن کی ایک زیر زمین ٹرین میں نسل پرستانہ حملہ کیا گیا۔ لیکن، انسانیت کی ایک مثال اس وقت نظر آئی جب ایک غیر مسلم ساتھی مسافر نےآگے بڑھکر ڈری سہمی لڑکی کو تحفظ فراہم کیا اور باحفاظت اس کےگھر تک پہنچایا۔

بائیس سالہ ایشیلے پوئیس نے اپنے فیس بک کے صفحے پر یہ واقعہ اپنے دوستوں کے ساتھ شیئر کیا تھا۔ انھوں نے لکھا کہ پیر کی شام جب میں ملازمت سے فارغ ہونے کے بعد گھر آنے کے لیے آکسفورڈ سرکس کے اسٹیشن سے وکٹوریہ لائن نامی ٹیوب پر سوار ہوا تو میں نے دیکھا کہ ایک مسافر خاتون جو حجاب پہننے ہوئے تھی اسے ایک دوسرے مسافر کی طرف سے نسل پرستانہ زیادتی کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

وائرل فیس بک پوسٹ میں اس نے لکھا کہ ایک 30 سالہ مسافر لڑکی پر مسلسل زبانی حملے کر رہا تھا وہ مغلظات بک رہا تھا اور اس کا نشانہ معصوم لڑکی تھی، جسے وہ 'دہشت گرد' کے نام سے پکار رہا تھا اور پیرس حملوں کا ذمہ دار قرار دے رہا تھا۔

لندن کے ایک اخبار ’ایوننگ اسٹینڈرڈ‘ سے ایک خصوصی بات چیت میں ایشیلے پوئیس نے بتایا کہ وہ ویلز کا رہائشی ہے اور پچھلے تین سال سے لندن میں رہتا ہے اور سنٹرل لندن کی ایک دوکان پر کام کرتا ہے، جہاں وہ ہر روز دنیا کے کونے کونے سے آئے ہوئے لوگوں سے ملتا ہے۔ لیکن، یہ واقعہ اس کے لیے بہت عجیب تھا۔

اس نے بتایا کہ وہ شخص لگاتار لڑکی پر نا صرف زبانی وار کررہا تھا بلکہ واضح طور پر لڑکی کے بہت نزدیک پہنچ گیا تھا اور اس کی آنکھوں میں بہت نفرت تھی۔

بقول پوئیس میری برداشت کی حدیں ختم ہوگئی تھیں۔ اسی لیے میں اپنی نشست سے جارحانہ انداز میں کھڑا ہوا اور اس شخص کو لڑکی سے دور دھکیل دیا اور خود لڑکی کی برابر والی نشست پر بیٹھ گیا اور لڑکی کا دھیان بٹانے کے ارادے سے ادھر ادھر کی باتیں کرنے لگا اس طرح اب میں اس شخص اور لڑکی کے بیچ میں رکاوٹ کی طرح موجود تھا تاکہ وہ شخص لڑکی کو براہ راست اپنی نفرت کا نشانہ نا بنا سکے۔

ایشیلے پوئیس نے کہا کہ میرے اس اقدام سے وہ شخص مزید بھپر گیا اور اب مجھے دہشت گردوں کا ہمدرد قرار دینے لگا۔ لیکن، پوئیس خوش تھا کیونکہ اب وہ لڑکی کے بجائے اسے برا بھلا کہ رہا تھا۔

بقول پوئیس میرا اسٹیشن نزدیک آرہا تھا۔ لیکن مجھے لڑکی کی فکر تھی میں اسے مصیبت میں اکیلا نہیں چھوڑنا چاہتا تھا۔

اسی خیال سے میں نے لڑکی سے پوچھا کہ کیا وہ چاہتی ہے کہ میں ٹرین میں اس کےساتھ رہوں لیکن اتنا پوچھنا تھا کہ لڑکی تشکر بھری نظروں سے مجھے دیکھتے ہوئی رو پڑی جس کے بعد پیوئیس ناصرف لڑکی کے اسٹیشن پہنچنے تک ساتھ رہا بلکہ لڑکی کو اس کی منزل مقصود پر بھی پہنچا کر آیا۔

پیوئیس نے اپنے فیس بک پوسٹ پر لکھا کہ جب راستے میں لڑکی سے پوچھا کہ کیا ایسا واقعہ پہلے کبھی ہوا ہے تو اس نے اپنا سر اثبات میں ہلایا اور مجھے یہ جان کر بہت سخت حیرت ہوئی کیونکہ میں سمجھتا ہوں کہ لوگوں کو ان کے لباس، رنگ اور عقائد کی وجہ سےنسل پرستی کا نشانہ بنانے کا رویہ جائز کسی بھی صورت میں جائز نہیں ہوسکتا ہے۔

الوادعی گوڈ بائے کہنے سے پہلے پوئیس نے لڑکی سے اس کا نام پوچھا اور کہا کہ اسے اپنا اعتماد نہیں کھونا چاہیئے کیونکہ اس شہر میں میرے جسے بہت سے لوگ اور بھی ہیں اسے اپنے ملک اور اپنے شہر میں ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے۔

پیوئیس کا کہنا ہے کہ مجھے اندازہ نہیں تھا کہ میری فیس بک پوسٹ جو دوستوں کے ساتھ شیئر کی گئی تھی اتنی زیادہ پسند کی جائے گی اور لوگ مجھے ہیرو پکارنے لگیں گے۔ لیکن، میں سمجھتا ہوں کہ میں بہادر یا ہیرو نہیں ہوں میں نے اس وقت دیکھا کہ ایک انسان کو میری مدد کی ضرورت ہے اور یہ انسانی فطرت ہے کہ وہ اپنی بساط کے مطابق دوسرے مدد ضرور کرنا چاہتا ہے اور میں نے بھی وہی کیا۔

پیوئیس کے مطابق یہ آکسفورڈ سرکس ایک معروف اسٹیشن ہے جہاں ٹرینیں مسافروں سے کھچا کھچ بھری ہوتی ہیں مگر اس کے باوجود مجھےحیرت ہےکہ کوئی اس لڑکی کی حمایت میں آگے نہیں بڑھا۔

لندن میں اسلام فوبیا کے خلاف بڑھنے والے جرائم میں پچھلے برس اضافہ ہوا ہے اسلام فوبیا پر نظر رکھنے والی ایک مسلم تنظیم ٹیل ماما کے اعداد و شمار کے مطابق نسل پرستانہ حملوں کا شکار بننے والوں افراد میں 60 فیصد حجاب پہننے والی خواتین شامل ہیں۔

XS
SM
MD
LG