رسائی کے لنکس

چین دنیا کی سب سے بڑی معیشت بننے کے قریب


رپورٹ کے مطابق چینی معیشت کی شرحِ نمو ماضی میں لگائے جانے والے اندازوں سے کہیں زیادہ رہی ہے۔

رپورٹ کے مطابق چینی معیشت کی شرحِ نمو ماضی میں لگائے جانے والے اندازوں سے کہیں زیادہ رہی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر چینی معیشت کی بڑھوتری کی موجودہ رفتار برقرار رہی تو 2014ء کے اختتام تک چین امریکہ کو پیچھے چھوڑ کر دنیا کی سب سے بڑی معیشت بن جائے گا۔

اقوامِ متحدہ کی ایک نئی رپورٹ میں پیش گوئی کی گئی ہے کہ چین رواں سال کے اختتام تک دنیا کی سب سے بڑی معیشت کا اعزاز حاصل کرسکتا ہے جو اس وقت امریکہ کے پاس ہے۔

اقوامِ متحدہ سے منسلک 'بین الاقوامی مسابقتی پروگرام' کی جانب سے بدھ کو جاری کی جانے والی رپورٹ کے مطابق چینی معیشت کی شرحِ نمو ماضی میں لگائے جانے والے اندازوں سے کہیں زیادہ رہی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر چینی معیشت کی بڑھوتری کی موجودہ رفتار برقرار رہی تو 2014ء کے اختتام تک چین امریکہ کو پیچھے چھوڑ کر دنیا کی سب سے بڑی معیشت بن جائے گا۔

لیکن عالمی معیشت کے دیگر مروجہ اشاریوں کے برعکس اس رپورٹ میں ملکی معیشتوں کے باہم موازنے کے لیے "قوتِ خرید" کو بنیاد بنایا گیا ہے جس میں یہ جانچا گیا ہے کہ ایک جتنی رقم سے مختلف ملکوں میں کیا کچھ خریدا جاسکتا ہے۔

رپورٹ کی بنیاد پر معروف جریدے 'دی اکنامسٹ' نے بدھ کو ایک مضمون شائع کیا ہے جس میں چین کے 2014ء کے اختتام تک 'معاشی سپر پاور' بننے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔

'اکنامسٹ' نے لکھا ہے کہ "امریکہ کی صدی ختم ہورہی ہے اور دنیا کے ایک نئے دور کا آغاز ہورہا ہے"۔ 'فنانشل ٹائمز' اور برطانوی اخبار 'دی گارجین' نے بھی عالمی ادارے کی مذکورہ رپورٹ کی بنیاد پر بدھ کو اسی نوعیت کی پیش گوئیاں شائع کی ہیں۔

خیال رہے کہ چین کی معیشت تین دہائیوں تک 10 فی صد سے زائد شرح سے ترقی کرتی رہی ہے جس کے بعد عالمی اقتصادی بحران کے باعث حالیہ برسوں میں چین کی شرحِ نمو میں کمی آئی ہے۔

چینی معیشت کی شرحِ نمو کو دیکھتے ہوئے یہ امکان ظاہر کیا جاتا رہا ہے کہ 'جی ڈی پی' کے اعتبار سے چین جلد ہی دنیا کی سب سے بڑی معیشت بن جائے گا لیکن ماہرینِ معاشیات کی اکثریت کا خیال تھا کہ ایسا ہونا حالیہ دہائی کے اختتام تک ہی ممکن ہوگا۔
XS
SM
MD
LG