رسائی کے لنکس

سعودی عرب کا امریکہ سے تعلقات پر 'نظرِ ثانی' کا عندیہ، رپورٹ


سعودی عرب کی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ شہزادہ بندر بن سلطان روس کے صدر ولادی میر پیوٹن کے ہمراہ (فائل)

سعودی عرب کی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ شہزادہ بندر بن سلطان روس کے صدر ولادی میر پیوٹن کے ہمراہ (فائل)

امریکہ میں 22 سال تک سعودی عرب کے سفیر کی خدمات انجام دینے والے شہزادہ بندر کا یہ بیان اس لیے بھی اہم ہے کہ انہیں امریکہ کے بہت قریب سمجھا جاتا ہے۔

سعودی عرب کے ایک اعلیٰ حکومتی عہدیدار نے شام میں جاری بحران حل کرنے میں ناکامی اور ایران کے ساتھ تعلقات میں بہتری کی کوششوں پر بطورِ احتجاج امریکہ کے ساتھ تعلقات پر نظرِ ثانی کا عندیہ دیا ہے۔

برطانوی خبر رساں ایجنسی 'رائٹرز' کے مطابق سعودی عرب کے انٹیلی جنس امور کے نگران شہزادہ بندر بن سلطان نے یورپی سفارت کاروں کو امریکہ سے متعلق سعودی رویے میں آنے والی متوقع "اہم تبدیلیوں" سے مطلع کردیا ہے۔

'رائٹرز' نے سعودی عرب کے پالیسی امور سے متعلق ایک اہم ذریعے کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ شہزادہ بندر نے یورپی سفارت کاروں کے ساتھ ہونے والی اپنی حالیہ بات چیت میں واضح کیا ہے کہ سعودی عرب نے شام کے بحران پر کوئی واضح اقدام کرنے اور مسئلۂ فلسطین کے حل میں ناکامی اور تہران کے ساتھ تعلقات میں بہتری کی کوششوں پر بطورِ احتجاج امریکہ کے ساتھ اپنے روابط میں "اہم تبدیلیاں" لانے کا فیصلہ کیا ہے۔

تاحال یہ واضح نہیں ہے کہ سعودی انٹیلی جنس چیف کے مذکورہ بیان کو سعودی عرب کے حکمران شاہ عبداللہ کی آشیرواد حاصل ہے یا نہیں۔

'رائٹرز' نے اپنے ذریعے کی شناخت ظاہر کیے بغیر رپورٹ میں کہا ہے کہ خطے کی بدلتی ہوئی صورتِ حال کے پیشِ نظر سعودی عرب امریکہ پر مزید انحصار کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتا اور اسی لیے اس نے اپنی خارجہ پالیسی میں جوہری تبدیلی کا فیصلہ کیا ہے۔

خیال رہے کہ 1932ء میں مملکتِ سعودی عرب کے قیام کے بعد سے ریاض اور واشنگٹن ایک دوسرے کے قریبی اتحادی رہے ہیں۔ سعودی عرب امریکی اسلحے کا بڑا خریدار ہے جب کہ امریکی حکومت سعودی عرب سے تیل خریدتی ہے۔ سنہ 1990 کی دہائی میں خلیجی جنگ کے بعد سے سعودی عرب میں امریکی فوجی دستے بھی تعینات ہیں۔

شہزادہ بندر بن سلطان کے اس بیان سے قبل جمعے کو سعودی عرب نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی غیر مستقل رکنیت قبول کرنے سے انکار کرکے عالمی سیاست میں ہلچل مچادی تھی۔

سعودی حکومت نے اپنے اس حیران کن فیصلے کی بنیاد اقوامِ متحدہ کے "دوغلے معیار" اور شام جیسے عالمی تنازعات پر کوئی فیصلہ کن کردار ادا کرنے میں ناکامی کو قرار دیا تھا۔

'رائٹرز' نے اپنی رپورٹ میں مزید کہا ہے کہ شہزادہ بندر نے یورپی سفارت کاروں کو بتایا ہے کہ شام اور فلسطین کے مسئلے پر کوئی فعال قدم اٹھانے سے گریز پر ان کا ملک امریکہ کے ساتھ اپنے رابطے محدود کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

امریکہ میں 22 سال تک سعودی عرب کے سفیر کی خدمات انجام دینے والے شہزادہ بندر کا یہ بیان اس لیے بھی اہم ہے کہ انہیں امریکہ کے بہت قریب سمجھا جاتا ہے۔

خارجہ امور میں سخت گیر پالیسیاں اپنانے کے حامی اور ایران کےسخت مخالف سمجھے جانے والے شہزادہ بندر سعودی عرب کے مرحوم ولی عہد اور وزیرِدفاع شہزادہ سلطان کے صاحبزادے ہیں اور سعودی عرب کے مرحوم حکمران شاہ فہد کے انتہائی قریب رہے ہیں۔

خارجہ امور پر اختلافی رائے رکھنے کے سبب موجودہ سعودی حکمران شاہ عبداللہ نے ان سے امریکہ میں سفارت کاری کا منصب واپس لے لیا تھا جس کے بعد وہ ایک عرصے تک سیاسی ذمہ داریوں سے دور رہے تھے۔

لیکن شام میں جاری خانہ جنگی میں شدت کے بعد گزشتہ سال سعودی حکومت نے شہزادہ بندر بن سلطان کو ملک کی انٹیلی جنس ایجنسی کا سربراہ مقرر کیا تھا۔

خلیجی ممالک کے سفارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ سعودی حکومت نے شہزادہ بندر کو شام کے شیعہ صدر بشارالاسد کی حکومت کے خاتمے کا خصوصی ہدف دیا ہے۔

سفارتی حلقوں کے مطابق شامی باغیوں کو ہتھیاروں اور دیگر امداد کی فراہمی اور اس معاملے پر عالمی طاقتوں اور خطے کے ممالک کے ساتھ پسِ پردہ گفتگو شہزادہ بندر کے سپردہے جب کہ شامی تنازع پر سفارت کاری کا محاذ ان کے کزن اور سعودی وزیرِ خارجہ شہزادہ سعود الفیصل نے سنبھال رکھا ہے۔
XS
SM
MD
LG